کے این واصف
مملکت سعودی عرب کے مسلمہ “ام القرعہ کیلنڈر” کے عین مطابق سعودی عرب میں آج (18 فروری) ماہ رمضان کا آغاز ہوگیا۔ سعودی کے علاوہ دیگر عرب اور مغربی ملکون میں بھی ماہ رمضان کے آغاز کی اطلاع ہی۔
مقدس شہرون مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں رمضان کے بابرکت مہینے کے استقبال کی تیاریاں ایک ہفتہ قبل ہی مکمل کرلی گیئن تھین۔ شاہراہیں، گلیاں اور بازار خوبصورتی سے سجادیئے گئے تھے جہاں رنگ برنگی لائٹس اور فانوس نصب گئے ہیں۔ اس سلسلہ میں سرکاری خبر رساں ایجنسی “ایس پی اے” نے ماہ رمضان کی تیاریوں پر ایک خصوصی رپورٹ بھی جاری کی ہے۔
عرب ممالک میں عموماٗ اور سعودی عرب میں خصوصاً ماہ رمضان کا خصوصی اہتمام کیا جاتاہے۔ مملکت بھر میں اس ایک ماہ کے لیے تمام معمولات زندگی تبدیل ہوجاتے ہیں۔ ایسا لگتاہے کہ دن رات میں اور رات دن میں تبدیل ہوگئے ہیں۔ ساری سرگرمیاں بعد افطار شروع ہوتی ہیں جو ازان فجر تک جاری رہتی ہیں۔ سرکاری اور نجی ادرون کی اوقات کار میں کمی اور تبدیلی کردی جاتی ہے۔ بازار ظہر یا عصر صلاہ کے بعد کھلتے اور فجر تک کھلے رہتے کرتے ہیں۔ رات بھر ان کی رونقیں دیدنی ہوتی ہیں۔
حرمین شریفین میں مقامی اور بیرونی زائرین کی تعداد موسم حج سے کئی گناہ زیادہ ہوجاتی ہے۔ حرمین میں رات بھر گہماگہمی رہتی ہے۔مختلف ملکون، تہذیبوں اور زبانوں کے بولنے والے ایک ساتھ عبادت کرتے اور بازاروں میں گھومتے پھرتے نظر آتے ہیں۔ یہ ایسے مناظر ہیں جس کی نظیر دنیا میں کہین اور نہین ملتی۔
حرمین شریفین میں ایک ماہ تک انسانی سروں کا ایک سمندر تھاٹین مارتا نظر آتاہے۔ یہاں انتظامیہ کی بے مثال کارکردگی کو سلام کہ مقدس شہرون میں اس قدر بھاری تعداد میں جمع زائرین کے باوجود کہین کچہرا بلکہ تنکا بھی نظر نہین آتا۔ نہ لا اینڈ آڈر کا کوئی مسئلہ ہوتا ہے نہ کبھی بجلی منقطہ ہوتی ہے نہ پانی کی کمی۔ یہاں یہ کہنا بے جاہ نہ ہوگا کہ صاف صفائی کے معاملے میں زائرین کے عدم تعاون کے باوجود مستعد صفائی کا عملہ کہین صاف صفائی کی کوئی شکایت کا موقع نہین دیتا۔
حرمین شریفین میں لاکھون زائرین کے لیے افطار کے دسترخوان لگتے ہیں۔ جو حرمین شریفین کا خاصہ ہے۔ ادارے یا انفرادی طور پر مقامی لوگ حرمین انتظامیہ سے دستر لگانے کی اجازت حاصل کرتے ہیں۔ ہر دستر لگانے والے زائرین کو اپنے دستر پر لے جاکر بٹھانے کی پر خلوص درخواست کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ دسترخوان حرمین کے اندرونی اور بیرونی حصوں میں لگائے جاتے ہیں اور افطار کے فوری بعد بڑی تیزی سے اٹھا دئیے جاتے ہیں تاکہ وہیں نماز مغرب قائم کی جاسکے۔ یہ حسن انتظام قابل صد ستائش ہے۔ نیز مملکت کے ہر شہر میں مساجد کے قریب افطار خیمے (ٹنٹس) لگائے جاتے ہیں جہاں افطار اور کھانے کا معقول انتظام ہوتا ہے۔
خانگی ادارون، سماجی تنظیمون اور انفرادی طور پر بڑے پیمانے پر افطار پارٹیوں کا اہتمام کیا جاتاہے۔ جس کے لئے اسٹار ہوٹلس، بینکویٹ اور شادی ھالز اور عام رسٹورنٹس ہفتون قبل بک کرلیے جاتے ہیں۔ جن کو افطار کے لیے بکنگ نہین ملتی وہ سحر کی دعوتون کا اہتمام کرتے ہیں۔
بہر حال رمضان کا پورا مہینہ حرمین شریفین میں لاکھون زائرین جو برکتیں لوٹتے اور خوشی و خضوع کے ساتھ عبادتوں میں مشغول رہتے ہیں کی آمد و رفت سے مقدس شہرون کا ماحول روح پرور اور پررونق بنا رہتاہے۔
