سعودی عرب میں اردو زبان و ادب کی ترویج کے پچاس سال
” سنگ تراشے کی رسم اجراء "
ایک عرصہ کی تمناوں تیاریوں اور منصوبہ بندی کے بعد آخر کار ۱۲ ڈسمبر ۲۰۲۵ کی شام کے لئے شہر کے قلب میں ایک شاندار ہال منتخب کیا گیا ۔
عالمی مشاعرے کا اعلان اور شرکاء کی فہرست کا فلائر جاری کیا گیا ۔
شرکت کے بیرونی خواہشمند احباب کئی ایک تھے مگر جن کے نصیب میں شریک ہونا تھا انکی باتصوہر فہرست میڈیا پر پیش کی گئی ۔ پہلے افراد کا خیرمقدم الگ الگ فلائر کے ذریعے ہوا پھر مجموعی بینر بر سر عام پیش کیا گیا۔ مہمانوں میں امریکہ سے محترم عابد رشید شکاگو ، محترم ریاض شاہد بحرین سے ڈاکٹر مہ جبین غزال میسور انڈیا سے محترم طاہر سعود کرتپوری بجنور انڈیا سے محترم اشفاق اصفی نظام آباد انڈیا سے اور احمد رئیس نظامی اجین انڈیا سے شریک جشن ہوے جبکہ راج ویر راز گزشتہ دو سالانہ مشاعروں سے کوشش کے باوجود تشریف نہیں لا سکے۔
احباب بالخصوص اسلم افغانی کی خواہش تھی کہ جب بڑا پروگرام منعقد کرنا ہے تو اسے جشن مہتاب قدر سے موسوم کیوں نہ کیا جاے۔ چنانچہ بینر پر جشن مہتاب قدر عالمی مشاعرہ درج کیا گیا اور اسی نوعیت کی تیاریاں کی گئیں دعوت نامےاور بینر کی تیاری و طباعت مخلص تاجر جناب ذکریا بلادی نے پورے خلوص کے ساتھ انجام دی۔
کتاب ” مہتاب قدر معاصرین کی نظر میں ” بھی صرف ایک ہفتہ قبل شائع ہو چکی تھی اسلئے اس کی رسم اجراء کوبھی شامل پروگرام کرلیا گیا۔


آڈیو ویڈیو کی ذمہ داری جدہ کے معروف میڈیا پرسن ٹی وی چینل کے نمائندے جناب علیم نے نبھائی۔
پروگرام سے دو دن قبل جدہ اور اس کے اطراف برسات سے متاثرین میں علیگڑھ کے محترم عزیز الرب کے بھانجے حرکت قلب بند ہونے سے جاں بحق ہوگئے اس کا اثر پڑا اور بہت کم علیگ شریک محفل ہوے جبکہ موصوف عزیز الرب نے انعقاد میں بھرپور تعاون کیا ۔ پرنس ضیا رسم نبھانے کو کچھ دیر کے لئے اے لیکن بہجت نجمی نے حسب معمول شرکاکی خدمت میں اپنا ھدیہ پیش کیا۔ سعودی شہری محترم عبدالقدیر صدیقی اس پروگرام کے مہمان خصوصی تھے جو اپنی گراں قدر مصروفیت کے باوجود آخر تک محظوظ ہوتے رہے۔ محترم کا دست تعاون اردو کے لئے ہمیشہ دراز رہتا اس لئے یہ پروگرام بھی انکے تعاون سے مستفیض رہا۔ ایک اور میزبان سعودی شاعرہ سمیرہ عزیز بھی شہ نشین پر براجمان تھیں مہمان خصوصی جناب عثمان بن محفوظ بھی خوب لطف اندوز ہوتے رہے۔
تلاوت قرآن کی سعادت حافظ سعید محمد تاج الدین نے حاصل کی۔ میزبان شعراء کو اہم شخصیات کے ساتھ پہلی صف میں بٹھایا گیا۔
مرد و خواتین سے ہال بھر چکا تھا۔
کتاب سنگ تراشے کی رسم اجراء بدست مہمانان خصوصی ادا کی گئی۔
مہمان شاعرہ ڈاکٹر مہ جبین نے اپنی کتاب آئینہ در آئینہ بھی رسم رونمائی کے لئے پیش کی۔ اس کے بعد مہتاب قدر کو کارنامہ حیات ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اسی موقع پر روایتی تاج اور شال کے علاوہ دیگر تحائف سےمہمان شاعرہ نے صاحب جشن کو نوازا۔ اسلم افغانی نے مہتاب قدر سے متعلق ایک مرسلہ مضمون پیش کیا اور محترم اشفاق بدایونی نے اپنی کڑکدار آواز میں ایسی شاندار تقریر فرمائی کہ بہت دیر تک سامعین لطف لیتے رہے۔ مہتاب قدر نے اس سارے اہتمام اور محبتوں کے لئے
تمام ساتھیوں انجمبوں اور خیر خواہوں کا شکریہ ادا کیا بطورخاص جناب اشفاق بدایونی کا شکریہ ادا کیا جنھوں نے اپنی ناسازئی مزاج کے باوجود شرکت فرمائی۔ مہمان شاعرہ مہ جبین غزال نے پروگرام میں سرگرم خدمات پر مرزا قدرت بیگ کوبھی تاج سے نوازا۔
لکھنو سے محترم محمد مجاہد سید نے مہتاب قدر کے لئے ایک الگ نشان تہنیت شیلڈ ارسال کیا تھا جس میں مہتاب قدر کو جدہ کے باباے اردو مشاعرہ کے خطاب سے نوازا گیا یہ شیلڈ ان کے دونوں صاحبزادوں تاشفین سید اور بابر سید کے ہاتھوں دیا گیا۔
ناظم اجلاس اسلم افغانی نے مائک پہلے ناظم مشاعرہ جناب ناصربرنی کے حوالے کیا، یہاں سے مشاعرے کی کاروائی کا آغاز ہوا۔ مدینہ سے تشریف لاے نعت کے ممتاز شاعر سید شجاع الدین مدیح کے نعتیہ کلام سے مشاعرے کا آغاز ہوا۔
میزبان شعراء کے بعد اسلم افغانی نے پہلے دور کے ناظم ناصر برنی سے کلام کی خواہش اور پھر مشاعرہ تمام مقامی شعراء کے بعد دوسرے ناظم احمد رئیس نظامی نے کاروائی چلائی۔
میزبان مقامی شعراء احمد باشا، فرید باشعیب ، عبدالخالق شاکر، کامران خان ، اسلم افغانی، فرحت اللہ خاں، عمران اعوان فیصل طفیل تاشفین سید افسربارہ بنکوئی اور دیگر نے کلام سنایا۔ مہمان شعراء کے ساتھ ڈاکٹر سمیرہ عزیز کے علاوہ مہ جبین غزال، ریاض شاہد بحرین، عابد رشید شکاگو طاہر سعود کرتپوری ناظم مشاعرہ احمد رئیس نظامی کے بعد مہتاب قدر اور پھر صدر مشاعرہ اشفاق اصفی نے مشاعرہ لوٹ لیا ۔آخر میں عشائیہ کا پرتکلف انتظام کیا گیا تھا، اور درمیان میں چاے سموسوں سے بھی حاضرین لطف اندوز دوز پوتے رہے ۔ اسلم افغانی اور مرزا قدرت بیگ کے اظہار تشکر پر یہ تاریخی یادگار پروگرام انتہا کو پہنچا

