کے این واصف
حضرتِ غالبَ نے دو صدی قبل سوال کیا تھا کہ “دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے، آخر اس درد کی دوا کیاہے۔ دو سو سال بعد ہی سہی ڈاکٹروں نے غالب کے سوال کا کھوج نکالا۔
ایک تازہ اطلاع کے مطابق کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی نے دل کے امراض میں ایک نئی کامیاب تحقیق کی ہے جس میں دل کی چھپی ہوئی بے ترتیب دھڑکن کی تشخیص کے لیے سادہ اور مؤثر طریقہ ڈھونڈ لیا گیا ہے۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی “ایس پی اے” کے مطابق ایسی بیماریاں روایتی ٹیسٹوں میں مشکل سے سامنے آتی ہیں اور اس سے دل کی دھڑکن خوفناک حد تک تیز ہو سکتی ہے جس سے جان کا خطرہ بھی پیدا ہوتا ہے۔
یہ تحقیق کینیڈا کی ویسٹرن یونیورسٹی کے ساتھ مل کر کی گئی جس میں الیکٹرو فزیالوجوسٹ ڈاکٹر احمد مختار نے تشخیق کا طریقہ کار ڈھونڈا ہے۔
اس کا مقصد درست تشخیص کرنا اور دل کی بے ترتیب دھڑکن کے دوران علاج کے فیصلے کو جلد کرنا ہے جس سے علاج کا معیار اور مریض کی حفاظت میں بہتری آتی ہے۔
اس تکنیک کو 24 مریضوں پر آزمایا گیا جس میں خطرناک اور نارمل دل کی دھڑکن کے درمیان واضح فرق دیکھا گیا۔
اس تحقیق سے حاصل ہونے والے نتائج انٹرنیشنل میڈیکل جرنل “ہارٹ ردھم” میں شائع کیا گیا ہے۔ جس سے تحقیق کی عالمی سطح اور طبی طور پر اہمیت اجاگر ہوتی ہے۔
