کے این واصف
کچھ عرصہ سے یہ خبرین اخبارات کی سرخیون میں ہیں کہ فلاں شہر میں آوارہ کتّون نے کم سن بچون پر حملہ کیا یا فلاں شہر میں کتّون نے راہ چلتی خواتین پر حملہ کرکے انھین شدید زخمی کردیا وغیرہ۔ ان خبرون نے ارباب مجاز کو بدنام و رسوا کیا۔
مگر پچھلے ایک ہفتہ سے دہلی میں منعقد ہوئی AI سمٹ میں نوئیڈا کی گلگوٹیا یونیورسٹی کا پیش کردہ “روبو ڈاگ” (مشینی کتّا) میڈیا میں چھایا ہوا ہے۔
گلی کے کتّون نے اپنے کتّے پن سے ملک کے کچھ شہروں کے انتظامیہ کو رسوا کیا۔ مگر یہ روبوڈگ جسے گلگوٹیا یونیورسٹی نے اپنی تخلیق بتایا تھا، نے ہمین بین الاقومی سطح پر رسوا کیا۔
کتّون سے متعلق دسیوں کہاوتین بھی ہیں جن میں ایک “ہرکتّے کے دن بدلتے ہیں” بہت عام ہے۔ گلگوٹیا یونیورسٹی کے کتّے کے دن بھی بدلے اور وہ راتوں رات منفی ہی سہی عالمی سطح پر مشہور ہوگیا۔ یہ اس طرح ہے جیسے “بدنام جو ہونگے تو کیا نام نہ ہوگا”۔
