کے این واصف
اتر پردیش سے آئی ایک خبر پر دیکھی تو اچانک یہ مصرعہ ذہن میں آیا “عشق پر زور نہیں ہے یہ وہ آتش غالب”
ایک نیوز پورٹل پر آئی خبر کی تفصیل یوں تھی کہ ضلع اوریا (یوپی) کی ایک 30 سالہ رانی راجپوت نامی لڑکی جو اپنی ایک سہیلی کے ساتھ ُملکرریلز بناتی ہے۔ سہیلی کا باپ رام سࣿگَر ایک 75 سالہ رنڈوا ہے، جس کی بیوی عرصہ قبل گزر گئی۔ اس بوڑھے اور جواں سال لڑکی کے درمیان عشق کی “آتش” بھڑکی۔ پتہ نہیں کس کے “بھاگ میں چھینکا ٹوٹا”۔ دونوں نے شادی کا فیصلہ کرلیا۔
یہ خبر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔ لوگوں اس پر نے طرح طرح کے میمز بنائے اور فقرے کسے۔ ایک نوجوان نے پرانی کہاوت کو الٹ کر لکھا “بوڑھا گھوڑا لال لگام”۔ کسی نے لکھا “چچا جی پٹانے کا گر ہمیں بھی بتائیے” وغیرہ۔ اس پر ہمارے ذہن میں بھی ایک بات آئی کہ اب تک تو تجربہ حصولِ ملازمت میں کام آتا تھا مگر اب پتہ چلا کہ تجربہ شادی کے معاملے میں بھی کارگر ہے۔
