پروفیسر مسعود احمد، محمد علیم خان، صبغت اللہ شاہد اور منور حسین کا خطاب و شعری محفل۔
حیدرآباد – (راست )
پروفیسر محمد مسعود احمد نے کہا کہ شخصیت سازی میں والدین اور اساتذہ کا کلیدی رول ہوتا ہے۔ دنیا میں کوئی بھی شخص خواہ کتنی ہی ترقی کر لے اس کی ترقی میں اس کے والدین و اساتذہ کی تربیت کا بہت بڑا دخل ہوتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایوان احمد کی چودھویں نشست "محفل عصرانہ” سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس کا موضوع "شخصیت سازی کی اہمیت” دیا گیا تھا پروفیسر محمد مسعود احمد نے سلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں جبکہ سیل فون کا استعمال حد سے زیادہ ہو گیا ہے ایسے حال وماحول میں اساتذہ کی ذمہ داریاں پہلے سے دو چند ہو جاتی ہیں۔ اگرچہ کہ قوم کے معماروں کی تربیت کی والدین کے بعد اساتذہ کی ذمہ داری ہے۔ لیکن نصابی بوجھ نے اساتذہ کو بھی اپنے طلبہ کی شخصیت سازی کے عمل سے بڑی حد تک دور کر دیا ہے۔ پھر بھی بہت سارے اساتذہ اپنے اپنے طور پر اخلاقیات اور نصیحت آمیز باتوں سے طلبہ و طالبہ کو واقف کرواتے ہوئے ان کی شخصیت کو نکھارنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ ایک مستحسن اقدام ہے۔ طلبہ کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے والدین، سرپرستوں، رشتہ داروں اور بالخصوص اساتذہ کی بتائی باتوں پر عمل کرتے ہوئے اپنی شخصیت کو نکھاریں صرف تعلیم حاصل کرنے یا پھر ڈگری حاصل کرنے سے ہم سرخرو نہیں ہوتے۔
جناب فضل تمیمی نے اپنے خطاب میں کہا کہ محفل عصرانہ کا نام ہی بابرکت ہے یہان مجھے باذوق حضرات کو دیکھ کر بڑی مسرت ہوئی۔ انہوں نے محفل عصرانہ کے پابندی سے انعقاد پر پروفیسر مسعود احمد کو مبارکباد دیتے ہوئے چند اشعار بھی سنائے۔ جناب محمد علیم خان این آر آئی نے کہا کہ محفل عصرانہ کے ذریعے ہر وقت نئے نئے شعراء کے کلام سے محظوظ ہونے اور مختلف ادبی خیالات کو سننے کا موقع ملتا ہے۔
اردو اخبارات کے معروف مراسلہ نگار جناب صبغت اللہ شاہدنے کہا کہ محفل عصرانہ نے بہت جلد مقبولیت حاصل کر لی ہے اس محفل کے ذریعے شعراء برادری اور ادیبوں کو ایک ساتھ مل بیٹھنے کا ہر ہفتہ موقع فراہم ہو رہا ہے۔ یہ ایک قابلِ ستائش اقدام ہے۔
جناب محمد منور حسین بانی “بزم حسین” نے اس محفل کے لیے اپنے نیک کا توقعات کا اظہار کیا اور خواہش کی کہ اردو داں عوام اس محفل میں کثیر تعداد میں شرکت کرین۔
جناب محمد عبدالغنی مہمان بطورطخصوصی شرکت کی۔ جناب محمد عبدالعلیم خان اور ڈاکٹرعبدالغنی کی جناب منور حسین نے شال پوشی کی۔
مخدوم ایوارڈ یافتہ شاعر ڈاکٹر فاروق شکیل کی صدارت میں مشاعرہ ہوا۔ صدر مشاعرہ کے علاوہ طاہر گلشن آبادی، پروفیسر محمد مسعود احمد، جناب فرید سحر، انجنی کمار گویل، لطیف الدین لطیف، دیپک والمیکی، جناب سید مصطفی علی سید، جہانگیر قیاس، شرف الدین ارشد، سہیل عظیم، سلیمان صدیقی اعتبار نے کلام پیش کیا۔ نظامت کے فرائض معروف مزاحیہ جناب لطیف الدین لطیف نے انجام دیے۔ پروفیسر مسعود احمد نے ڈاکٹر عبدالغنی’این آر آئی جناب محمد عبدالعلیم خان، جناب صبغت اللہ شاہد اور دیپک والمیکی کو اپنی تصانیف کا تحفہ پیش کیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر محمد آصف علی، جناب سید مجتبی عابدی، جناب محمد مظفر احمد، جناب محمد حسن الدین، جناب محمد اسماعیل، جناب محمد عارف و دیگر معززین نے شرکت کی۔
