حیدرآباد (راست)
پروفیسر مصطفی علی سروری پی آر او و رکن ایگزیکٹیو و اکیڈیمک کونسل مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی (مانو) نےبتایا کہ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی گچی باؤلی حیدرآباد کا قیام ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم وممتاز مجاہدآزادی ہند مولانا ابوالکلام آزاد کی یاد میں1998ءمیں عمل میں آیا۔ یہ یونیورسٹی اردو زبان سے تعلیم حاصل کرنے والوں کے لیے ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مولانا آزاد یونیورسٹی کے مشاہدہ کے لیے گورنمنٹ جونیئر کالج چنچل گوڑہ کے اسٹاف اور طالبات سے کیا جو "اردو یونیورسٹی کا دورہ کریں ” پروگرام کے تحت مشاہدے کے لیے یونیورسٹی آئے تھےجس کا اہتمام مانو المنائی اسوسی ایشن (انجمن طلبائے قدیم مانو کے صدر جناب اعجاز علی قریشی ایڈوکیٹ نے کیا تھا۔ پروفیسر مصطفی علی سروری نے یونیورسٹی کے مختلف فارغین کی کامیاب جدوجہد کو بیان کرتے ہوئے ان کی صلاحیتوں کو خراج تحسین پیش کیا۔ ںھون نےُکہا کہ یونیورسٹی کے فارغین آج ملک کی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے علاوہ بیرون ممالک برسر روزگار ہیں۔ انھون نے ان کے ناموں اور ان کی تعلیمی دلچسپی کا تفصیلی طور پر تذکرہ بھی کیا۔ انہوں نے طالبات سے کہا کہ وہ عزم مصمم کے ساتھ تعلیم حاصل کریں۔ انہوں نے بتایا کہ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی ہندوستان بھر میں وہ واحد سنٹرل یونیورسٹی ہے جس میں بی ایڈ کورس کی سب سے زیادہ 1200 نشستیں ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یونیورسٹی کی 28 سالہ تاریخ میں پروفیسر سید عین الحسن وہ واحد وائس چانسلر ہیں جنہوں نے حیدرآباد کے طلباء کے زیادہ سے زیادہ داخلوں کو یقینی بنانے کے لیے مقامی طلبا کے لیے 10 فیصد کوٹہ مقرر کیا۔ یہی نہیں بلکہ انہوں نے "اردو یونیورسٹی کا دورہ کریں ” پروگرام کے تحت ہر ہفتہ اسکولی وکالجس کے طلبا و طالبات کے علاوہ مدارس کے طلبہ و طالبات کو بھی یونیورسٹی کا مشاہدہ کرانے کی غرض سے یونیورسٹی سے اسکول و کالجس تک اور پھر واپسی کے لیے یونیورسٹی کی بس کا راست مفت انتظام کررکھاہے۔ اب تک مختلف اسکول اور کالجس اور مدارس کے ہزاروں طلبہ و طالبات نے یونیورسٹی کا ٹور کرتے ہوئے یہاں پر تعلیمی فیس معلوم کرنے کے بعد آگے تعلیم جاری رکھنے سے متعلق اپنی نہ صرف گہری دلچسپی دکھائی ہے بلکہ فیس کی بہت ہی کم شرح پر اپنی خوشگوار حیرانی کا بھی اظہار کیا ہے۔ بہت ساری طالبات نے یونیورسٹی سے واپس جاتے وقت یونیورسٹی میں داخلہ لینے کا ارادہ کیا ہےانہوں نے بتایا کہ مولانا آزاد یونیورسٹی گچی باؤلی حیدرآباد میں آئی ٹی آئی ئی کے کورسیس کی فیس بہت ہی کم ہے یعنی پلمبنگ کے ایک سالہ کورس کی سالانہ فیس صرف 60 روپے ہے اس کے علاوہ اےسی ٹیکنیشن اینڈ ریفریجیشن کے 2 سالہ کورس کی سالانہ فیس بھی 60 روپے ہے اور یہ 60 روپے بھی کورس کے اختتام کے بعد تربیت حاصل کرنے والوں کو واپس دے دیے جاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 4 سالہ بی ٹیک ریگولر کورس میں ہر سمسٹر کے لیے لڑکیوں سے صرف ایک ہزار 650 اور لڑکوں کے لیے ہر سمسٹر کے لیے صرف 5 ہزار500 فیس رکھی گئی لی جاتی ہے۔
بی ایڈ ریگولر 2 سالہ کورس کے لیے ہر سمسٹر کی فیس 5 ہزار 500 روپیے اس طرح سے جملہ سالانہ فیس 11 ہزار روپے ہے اس کے علاوہ ایم بی اے ریگولر2 سالہ کورس کی سالانہ فیس 10.500 روپے ہے اس کے علاوہ 4 سالہ بی اے ایل ایل بی کورس ریگولر کی ایک سال کی فیس 11250 ہے اسی طرح 2سالہ ایم سی اے کورس ریگولر کی سالانہ فیس 3650 ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایم سی اے 2سالہ ریگولر کورس کی 4 سمسٹر کی فیس 10 ہزار 600 روپے ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ایم سی جے دو سالہ ریگولر کورس کی سالانہ فیس11 ہزار روپے ہے اور ایم کام2 سالہ ریگولر کورس کی فیس سالانہ 10 ہزار 600 روپے ہے۔ انہوں نے والدین سے خواہش کی کہ وہ اپنے لڑکے اور لڑکیوں کی اعلی تعلیم پر خصوصی توجہ دیں صرف ایس ایس سی یا پھر انٹرمیڈیٹ تک ان کی تعلیم کو محدود نہ کریں۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر صالحہ شاہین لیکچر ہسٹری/سویکس نے کہا کہ پرنسپل گورنمنٹ جونیئر کالج چنچلگوڑہ جناب پیتمبر جے کرشنا کی خصوصی دلچسپی اور مانو المنائی اسوسی ایشن کی کاوشوں کے نتیجہ میں اس کالج کی طالبات کو مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے مشاہدے کا موقع ملا۔ انہوں نے کہا کہ واقعی مولانا آزاد اردو یونیورسٹی اردو والوں کے لیے بہت ہی کم فیس پر تعلیمی مواقع فراہم کر رہی ہے جس سے اردو میڈیم طلبہ و طالبات کو بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔ انہوں نے اس سلسلے میں وائس چانسلر پروفیسر عین الحسن کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا اور طالبات سے اپیل کی کہ وہ اس یونیورسٹی سے ضرور تعلیم حاصل کریں۔
جناب اعجاز علی قریشی ایڈوکیٹ صدر مانو المنائی اسوسی ایشن نے کہا کہ اسوسی ایشن کا مقصد یہی ہے کہ اس یونیورسٹی میں اردو میڈیم سے پڑھنے والے طلبہ و طالبات کا زیادہ سے زیادہ تعداد میں داخلہ کروایا جائے۔ اسی جذبے کے تحت المنائی اسوسی ایشن مختلف اسکولز و کالجز کے علاوہ مدارس کے انتظامیہ سے راست طور پر رابطہ کرتے ہوئے طلبہ و طالبات کو یونیورسٹی کا ٹور کروا رہی ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں وائس چانسلر پروفیسر عین الحسن کی خدمات کو زبردست خراج تحسین پیش کیا کہ ان کی شخصی دلچسپی کی وجہ سے اب تک ہزاروں طلبہ و طالبات میں یونیورسٹی کا مشاہدہ کیا ہے اور تعلیم سے اپنی خصوصی دلچسپی بھی ظاہر کی ہے۔ لیکچرر کامرس جناب سید عبدالحلیم نے کہا کہ معاشی پریشانیاں اپنی جگہ ہیں لیکن حالات اور مصائب اور معاشی تنگی کے باوجود طلبہ و طالبات کی تعلیم سے دلچسپی بڑی اہمیت رکھتی ہے انہوں نے المنائی اسوسی ایشن کا بطور خاص شکریہ ادا کیا کہ ان کی دلچسپی کی وجہ سے طلبہ و طالبات کو مولانا آزاد یونیورسٹی میں داخلہ لینے میں کافی سہولت ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک حوصلے بلند رہتے ہیں کامیابیاں قدم چومتی ہیں۔
محترمہ شمیم محمدی لیکچرر نے بھی اس موقع پر مولانا آزاد اردو یونیورسٹی سے اپنی تعلیمی یادیں وابستہ کرتے ہوئے بتایا کہ وہ بھی اس یونیورسٹی کی فارغ ہیں اور چاہتی ہیں کہ اردو میڈیم کے طلباء اور طالبات اس یونیورسٹی سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ فیض یاب ہوں۔ انہوں نے کہا کہ یہاں پر ہاسٹل کی سہولت بھی ہے اور دیگر بے شمار سہولیات ہیں جس سے استفادہ کیا جاسکتاہے۔
محترمہ بی سورنالتا لائبریرین نے کہا کہ مولانا آزاد یونیورسٹی میں مختلف کورسیس کی فیس کی انتہائی کم شرحیں سن کر انہیں بے حد خوشی ہوئی ہے انہوں نے کہا کہ طالبات کو اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے اور اپنا اور اپنے خاندان کے علاوہ اپنے ملک کا نام روشن کرنا چاہیے۔ اس موقع پر جناب ناصر حسین جنرل سیکرٹری مانوالمنائی اسوسی ایشن بھی موجود تھے۔ کوآرڈینیٹر مانو المنائی اسوسی ایشن جناب محمد حسام الدین ریاض نے کاروائی چلائی اور پروفیسر عین الحسن کے علاوہ پروفیسر مصطفی علی سروری اور مانو المنائی اسوسی ایشن کے صدر جناب اعجاز علی قریشی ایڈوکیٹ سے اظہار تشکر کیا بعد ازاں طلبہ و طالبات نے یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات کا مشاہدہ کیا انسٹرکشنل میڈیا سنٹر کے ڈائریکٹر جناب رضوان احمد نے طالبات کو میڈیا سنٹر کا مشاہدہ کروایا۔ محترمہ ہاجرہ بیگم اسسٹنٹ لائبریرین نے لائبریری کی کتابوں سے طالبات کو واقف کروایا طالبات اور اسٹاف نے یونیورسٹی کے تمام ذمہ داروں سے اظہار تشکر کیا۔
