کے این واصف
مغربی بنگال میں پہلی بار بی جے پی نے اسمبلی انتخابات میں اکثریت حاصل کی۔ کسی بھی ریاست میں نئی سیاسی پارٹی اقتدار میں آتی ہے تو ریاست میں بدلاؤ کا عمل شروع ہوتاہے۔ مگر بنگال میں اقتدار کی منتقلی سے قبل ہی بدلاؤ شروع ہوگیا۔
چہارشنبہ (6 مئی) کو خبر آئی کہ فوری طور پر ایک سڑک کا نام تبدیل کردیا گیا، سڑکون پر جگہ جگہ غنڈاگردی، اشتعال انگیز نعرون کا لگایا جانا، توڑپھوڑ وہ بھی بلذدوزر کے ذریعہ اور آگ زنی کے واقعات، ایک مندر کے قریب جہان برسوں سے کچھ مسلمانون کی دکانیں تھین انھین ہٹادیا گیا۔ یعنی بھگوابرگیڈ نے بنگال میں اپنے وجود کا احساس دلانا شروع کردیا۔
ایسے ناگفتہ اور کشیدہ حالات میں کیاایک پرامن اور پرسکون زندگی کی توقع کی جاسکتی ہے۔ عوام نے ریاست میں کیا ایسے حالات دیکھنے کے لیے سیاسی تبدیلی لائی تھی۔ لگتا ہے بدلاؤ کی خاطر نئی پارٹی کو بھاری اکثریت دلانے والے عوام اب یہ کہین گے ؔ
“وہ انتظار تھا جس کا، یہ وہ سحر تو نہین”
