ہندوستانی قونصل خانہ میں یادگار پروگرام
جدّہ۔ سعودی عرب (بذریعہ ای میل) اُردو اکیڈمی جدّہ کے زیرِ اہتمام مجاہدِ آزادی اور معمارِ تعلیم مولانا ابوالکلام آزادؒ کی یاد میں سلور جوبلی ’’یومِ قومی تعلیم‘‘ کا نہایت شانداراورمنظم پروگرام ہندوستانی قونصل خانہ جدّہ میں 21 نومبر کی شام منعقد ہوا۔ تقریب کا آغاز حافظ محمد نظام الدین غوری صوفی قادری کامل، جامعہ نظامیہ و معتمد نشر و اشاعت اکیڈمی کی پُرسوز قرأتِ کلامِ مجید سے ہوا۔ جناب سید محمد خالد حسین مدنی، نائب صدر اکیڈمی نے نعت شریف پیش کرنے کی سعادت حاصل کی۔ ایشان عبدالرؤف، ریحان اوداین اور جوہن میتھیو جیو نے ترانۂ ہند پیش کیا، جسے تمام شرکاء نے احتراماً کھڑے ہو کر سنا۔ محمد یاسر قادری (دارالعلم) نے وطنِ عزیز پر دلنشین نظم پیش کی۔
مشہور سعودی تاجر محترم محمد عبدالقدیر حسن صدیقی، سرپرست اُردو اکیڈمی جدّہ نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی، جبکہ جلسہ کی صدارت مولانا حافظ محمد عبدالسلام نقشبندی، بانی رکن و صدر اُردو اکیڈمی جدّہ نے فرمائی۔ جناب اسلم افغانی، پروگرام کوآرڈینیٹر اکیڈمی نے نظامت کے فرائض نہایت عمدگی سے انجام دیے، جسے سامعین نے بے حد سراہا۔
جناب سید نعیم الدین باری، معتمد اکیڈمی نے خطبۂ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے تمام مہمانانِ گرامی، حاضرین و سامعین کا پُرتپاک استقبال کیا۔
مہمانِ خصوصی محترم عبدالقدیر نے اپنے خطاب میں اُردو اکیڈمی جدّہ کی 25 سالہ خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ادارے نے نہ صرف زبان کی خدمت کی ہے بلکہ نئی نسل میں اخلاقی، تعلیمی اور تہذیبی شعور بیدار کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے طلبہ کی کارکردگی کو بھی دل کھول کر سراہا۔
صدرِ جلسہ حافظ محمد عبدالسلام نے اپنے خطاب میں اُردو زبان کی علمی و تہذیبی اہمیت پر خصوصی روشنی ڈالی۔ انہوں نے اکیڈمی کے بانیان محترم غلام آصف صمدانیؒ، محترم محمد نعیم اللہ شریفؒ، محترم سید جمال اللہ قادریؒ اور محترم سلیم فاروقی (صدر اُردو اکیڈمی جدہ، حیدرآباد چیپٹر) کے ساتھ اکیڈمی کے قیام اور اس کی بنیاد رکھنے کی تاریخ کو بھی نہایت مؤثر اور جامع انداز میں بیان کیا۔آخر میں مدینہ منوّرہ کے راستے میں حادثہ کے شہداء کے لیے رقت انگیز دعائے مغفرت کی۔
جناب سمیع احمد فاروقی خازن، ڈاکٹر مرزا قدرت نواز بیگ جوائنٹ سکریٹری، محمد یوسف وحید، محمد یحییٰ اور محترمہ سراج النساء سمیت معزز اراکین نے مہمانوں کو گلدستے پیش کرکے استقبال کیا اور پروگرام کے انتظامات کی نگرانی کی۔
جناب سید عبدالوھاب قادری، جوائنٹ پروگرام کوآرڈینیٹر نے ادھورے اشعار سنائے جنہیں سامعین نے پُرجوش انداز میں مکمل کیا، اور اس موقع پر انہیں اکیڈمی کی جانب سے تحائف پیش کیے گئے۔ ڈاکٹر خواجہ یامین الدین رکنِ معزز اکیڈمی نے ’فِٹ انڈیا موومنٹ اور نیشنل ایجوکیشن پالیسی ۲۰۲۰ (این ای پی 2020) کے حوالے سے نہایت مفید اور جامع معلومات پیش کیں۔
تقریب کا ایک نمایاں اوردل کو چھو لینے والا حصہ ’’جذبہ بیداری ڈراما‘‘ تھا، جس میں طلبہ نے والدین خصوصاً ماؤں کو اولڈ ایج ہومز میں چھوڑنے کے بڑھتے ہوئے رجحان کو درد انگیز انداز میں پیش کیا۔ اس ڈرامے نے حاضرین کے دلوں پر گہرا اثر چھوڑا اور والدین کی عظمت کے پیغام کو مؤثر انداز میں اُجاگر کیا۔اس ڈراما کو معلمہ فرزانہ بیگم آئی آئی ایس جے کی زیرِ نگرانی بشریٰ محمد بشر‘ اقصیٰ آفتاب‘ رومیسہ عامر بیگ‘ عائشہ ناصح صدیقی‘اصفیاء شیرین اور امان سمیر نے پیش کیا۔
اُردو اکیڈمی جدّہ کے سالانہ ’’مجلّہ آزادؒ‘‘ کے سلور جوبلی ایڈیشن کا رسمِ اجراء مہمانِ خصوصی کے ہاتھوں عمل میں آیا۔ اس مجلّہ کے مدیر محترم شیخ ابراہیم (سرپرست اعلیٰ اُردو اکیڈمی جدہ، حیدرآباد چیپٹر) گزشتہ 25 سال سے یہ اہم ذمہ داری بخوبی انجام دے رہے ہیں۔
پروگرام کے ایک اہم حصہ میں طلبہ کے درمیان اُردو اور انگریزی تقاریر کے مقابلے ہوئے جن میں دونوں زبانوں کے شرکاء نے اعلیٰ معیار اور بے مثال اعتماد کے ساتھ اپنے موضوعات پر اظہارِ خیال کیا۔ مقابلوں کی نظامت سیدہ امۃ العزیز فاطمہ (آئی آئی ایس جے) نے نہایت مہارت سے انجام دی۔
اُردو مقابلہ کے ججز ٹی ایم محمد معین الدین، محترم عاصم ذیشان، ٹی ایم ارشد اے جاوید جبکہ انگریزی مقابلہ کے ڈی ٹی ایم ساجی کوریاکوس، ڈی ٹی ایم سمیروِران اور محترم عاصم ذیشان تھے۔ دونوں مقابلوں کے چیف جج ٹی ایم شہیر عبدالقدیر رہے جبکہ ٹائمر کے فرائض ٹی ایم ربیع الرحمن نے انجام دیے۔
اُردو تقریری مقابلہ میں لڑکوں میں محمد فرقان فہیم اوّل ‘ عبداللہ عتیق دوّم‘ سید خواجہ ریان الدین سوّم ‘ مصطفیٰ خان چہارم‘عبدالرحمٰن محمد نے پنجم درجہ حاصل کیا۔ لڑکیوں میں فلک جیلان اوّل‘ شمس عیسیٰ شبیبی دوّم ‘ رفیدہ عبیر یمین الدین سوّم ‘ سارہ اسرار چہارم اور مریم فاطمہ پنجم رہی ۔ انگریزی تقریری مقابلہ میں لڑکوں میں محمد عبداللہ خان اوّل‘ فرحان بن نظیردوّم‘ حامد سراج الدین سوّم ‘ محمد عاطف نے چہارم درجہ حاصل کیا ۔ لڑکیوں میں سُندس محمد اوّل‘ جزاء فاطمہ دوّم‘ امینہ خان سوّم اور سمارہ آصف نےچہارم درجہ حاصل کیا ۔
اکیڈمی کی جانب سے تمام طلبہ وطالبات، ججز، اساتذہ اور معاونین کو ’’یومِ قومی تعلیم سلور جوبلی یادگار ایوارڈ‘‘ سے نوازا گیا۔
آخر میں جناب سید محمد خالد حسین مدنی نے قونصل جنرل ہند جدہ عزت مآب فہد احمد خان سوری اور تمام معاونین کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔



جدّہ کی مختلف تنظیموں کے سربراہان و نمائندگان نے اپنی شرکت کو باعثِ اعزاز قرار دیتے ہوئے اکیڈمی کی کوششوں کو سراہا۔ شرکاء نے پروگرام کے معیار، ترتیب اور معنویت کی کھل کر تعریف کی۔۔ معزز حاضرین میں محترم اویس پٹنی ہائیر بورڈممبر‘ ڈاکٹر سلیم سابق چئیرمین آئی آئی ایس جے منیجنگ کمیٹی ‘پرنس مفتی ضیاء، جناب شفاعت رحمٰن (وِپرو)‘محترم مہتاب قدر‘ سید افضل الدین نقشبندی‘ قمرسادہ‘ شمیم کوثر‘ محمد فاروق‘ محمد لئیق ‘ ٹی ایم مرزا عبدالرحمٰن بیگ ‘ وغیرہ قابلِ ذکر ہیں ۔
پروگرام کے انتظام و انصرام میں ’’دارالعِلم‘‘ کی ٹیم نے حافظ محمد نظام الدین غوری کی زیرِ نگرانی رضاکارانہ خدمات پیش کیں۔ معاونین میں محمد وسیم احمد، محمد سرفراز، محمد شرف الدین شرفی، حافظ محمد جمیل، محمد سمیر، حافظ محمد ذیشان علی، حافظ محمد زبیر،محمد عظیم ، محمد توصیف، حافظ محمد مجتبیٰ خان وغیرہ شامل تھے۔
جناب شیخ علیم (اے کے نیوز)‘ محمد ناظم کی میڈیا ٹیم کے علاوہ محمد عبدالرحیم اور حافظ سید اطہر نے فوٹوگرافی، ویڈیو کوریج اور معلوماتی ریکارڈنگ کے فرائض احسن انداز میں انجام دیے، جس کے باعث یہ پروگرام مختلف ممالک میں لائیو نشر بھی ہوا۔
