کے این واصف
پچھلے ہفتہ اخبارات مین ایک حیران کن خبر شائع ہوئی جس مین بتایا گیا تھا کہ آندھرا پردیش کے اضلاع کرنول اور کڑپہ وغیرہ مین لوگ جگہ جگہ زمین کھود کر ہیرون کی تلاش مین لگے ہین۔ یہ کوئی افواہ کا نتیجہ ہی رہا ہوگا۔ کیونکہ اس نیوز سے متعلق آگے کوئی خبر نہین آئی کہ ہیرون کی تلاش کا کیا حاصل رہا۔
خبر مین اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ ہیرے تلاش کرنے والون مین سارے ۶۰ سال سے زائد عمر کے افراد شامل ہین۔
ہم نے خبر کے اس نکتہ پر غور کیا کہ ہیرے تلاش کرنے والون مین ۶۰ سال سے زائد عمر کے افراد ہی کیوں ہین۔ ہماری سمجھ مین یہ بات آئی کہ ۶۰ سے زائد عمر والون نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ اپنے گھر کے ہیرون کی تراش، خراش مین گزارا۔ جب ان سے فائدہ اٹھانے کا وقت آیا تو پتہ چلاکہ ان کے یہ ہیرے تو بے قیمت کانچ کے ٹکڑے نکلے۔ لہٰذا آخری عمر کے سہارے کے لئے اب وہ اصلی ہیرے کی تلاش مین زمین کھودتے پھر رہے ہین۔
