کے این واصف
گلوکار کے ایل سائیگل نے کسی فلم مین گانا گایا تھا “اک بنگلہ بنے نیارا، سونے کا بنگلہ، چندن کا جنگلا ۔۔۔۔۔” اور فلاں فلاں۔
سائیگل کا یہ خواب کوئی ۷۰ سال بعد پورا ہوا۔ مدھیہ پردیش کے شہر اندور مین ایک امیر ترین شخص نے سونے کا بنگلہ بنا دیا۔ جبکہ آج ہندوستانیون کی اکثریت “سونے” (نیند) کے لئے ایک چھت کی کوشش مین جٹی رہتی ہے۔ سونے کے اس بنگلہ کے مالک پیشہ سے ٹھیکیدار ہین۔ لگتا ہے کہ انھون نے امیری کا ٹھیکہ لیا ہواہے۔ اپنی دولت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس شخص نے اپنے محل مین سونے کی دیگر چیزون کے علاوہ نل کی ٹونٹی سے الیکٹرک ساکٹس تک ۲۴ کیرٹ سونے کے لگوائے ہین۔
سوشیل میڈیا پر وائرل اس خبر کو سنکر برسوں پہلے عزیز احمد کی لکھی ناول “ایسی بلندی ایسی پستی” یاد آئی۔ کیونکہ ہمارے ملک کی ۸۰ کروڑ آبادی پانچ کیلو مفت راشن حاصل کرنے ہر ماہ قطاروں مین لگتی ہے اور امیری کے ٹھیکیدار اسی ملک مین سونے کے محل تعمیر کررہے ہین۔
