کے این واصف
سعودی عرب مین خارجی باشندون مین اقامہ خوانین کی خلاف ورزی ایک پرانہ جرم ہے۔ سزاؤں سے واقف ہونے کے باوجود بہت اس خارجی اس کے مرتکب ہین۔ حالانکہ حالیہ عرصہ مین حکومت کی جانب سے اقامہ خوانین مین آسانیان اور سہولتین پیدا کی گئی ہین۔
اس سلسلہ مین جنرل ڈائریکٹوریٹ آف امیگریشن اینڈ پاسپورٹ “جوازات” کا کہنا ہے کہ گزشتہ ماہ اقامہ اور قانون محنت کی خلاف ورزیوں پر 8 ہزار سے زائد افراد کے خلاف فیصلے صادر کیے گئے۔
سعودی خبررساں ادارے “ایس پی اے” کے مطابق محکمہ جوازات کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ مملکت کے مختلف ریجنز میں ادارے کی انتظامی کمیٹیوں نے سعودی شہریوں اور غیرملکیوں کے خلاف اقامہ ، محنت اور سرحدی قوانین کی خلاف ورزیاں ریکارڈ کی جن کے کیسز متعلقہ اداروں کو ارسال کیے گئے جہاں سے خلاف ورزیوں کے مطابق فیصلے صادر کیے گئے۔
جوازات کے ترجمان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ خلاف ورزیوں پر مختلف نوعیت کی سزائیں دی گئیں جن میں قید ، جرمانے اور مملکت سے بے دخلی شامل ہے۔
محکمہ امیگریشن اینڈ پاسپورٹ (جوازات) نے تمام شہریوں اور مملکت میں مقیم غیرملکیوں سے کہا ہے کہ وہ مقررہ اقامہ ، محنت اور سرحدی قوانین کا احترام کریں تاکہ کسی قسم کی مشکل صورتحال میں مبتلا نہ ہوں۔
واضح رہے سعودی عرب میں امیگریشن قوانین کے مطابق غیرملکی کارکنوں کےلیے لازمی ہے کہ وہ اپنے اسپانسر کے علاوہ کسی اور جگہ ملازمت نہیں کرسکتے۔
عارضی طورپر اسپانسر کے علاوہ کسی اور جگہ کام کرنے کی صورت میں وزارت محنت سے این او سی حاصل کرنا ضروری ہے بصورت دیگر خلاف ورزی کے مرتکب قرار پاتے ہیں۔
ایسے افراد جنہیں اسپانسر کے علاوہ کسی اور جگہ کام کرتے ہوئے گرفتار کیا جاتا ہے انہیں جرمانے اور ملک بدری کے علاوہ قید کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔
