حیدرآباد ۔ (پریس نوٹ)
عذراسلطانہ کے شعری مجموعے "بچھڑے مسافر” کی تقریبِ رسم اجرا۔ پروفیسر ایس اے شکور اور جناب انوار الہدی دیگر کا خطاب۔
اس موقع پر پروفیسر ایس اےشکور ڈائریکٹر دائرۃ المعارف عثمانیہ یونیورسٹی نے کہا کہ حیدرآباد دکن اردو کا ایک عظیم مرکز ہے۔ انھون نے اردو کے مٹنے یا اس کے کی بقا کے شکوک و شبہات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جس زبان کا رسم الخط موجود ہو وہ زبان کبھی بھی ختم نہیں ہو سکتی۔ انھون نے یہ بھی اعتراف کیا کہ شمالی ہند میں اردو زبان کا چلن کم ہورہا ہے جبکہ حیدرآباد دکن میں اردو اپنی آب و تاب اور شان و شوکت کے ساتھ قائم ہے اور رہے گی۔
پروفیسر شکور نے محترمہ عذرا سلطانہ کے شعری مجموعہ “بچھڑے مسافر” کی "لامکاں” بنجارہ ہلز حیدرآباد میں رسم اجرا تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ محترمہ عذرا سلطانہ کے یوپی سے حیدرآباد منتقل ہو جانے اور یہاں پر اپنی ادبی سرگرمیاں جاری رکھنے پر خوشگوار تبصرے کئے۔ انھون نے حیدرآباد کی کچھ قدیم روایتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ "ایک بار جو شخص گنڈی پیٹ(عثمان ساگر) کا پانی پی لیتا ہے وہ حیدرآباد کا ہو کر رہ جاتا ہے” اس کے علاوہ ایک اوربات یہ بھی مشہور ہے کہ "جو کوئی حیدرآباد کی تاریخی مکہ مسجد کے صحن میں موجود پتھر کے تخت پر ایک بار بیٹھ جاتا ہے وہ بھی حیدرآباد کا ہی ہو کر رہ جاتا ہے یا پھر بار بار حیدرآباد آتا رہتاہے ،” انہوں نے کہا کہ یہ حیدرآباد کی سرزمین اور پانی کی تاثیر ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ حیدرآباد میں قومی اردو یونیورسٹی ہے، سیٹلائٹ ہے، اردود کےچینلس ہیں۔ اردو کی محفلیں ہر روز منعقد ہوتی ہیں اور یہاں اردو کی پھل پھول رہی ہے۔ اہل حیدرآباد دکن دنیا میں اردو نئی بستیاں بسارہے ہیں۔ انہوں نے محترمہ عذرا سلطانہ کے شعری مجموعے” بچھڑے مسافر” کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ یہ شعری مجموعہ اردو شعری دنیا میں ایک نیا اضافہ ہے۔ جس کے لیے عذرا سلطانہ قابل مبارکباد ہیں۔
تقریب کے مہمان خصوصی جناب سید انوار الہدی، سابق ڈائریکٹر جنرل پولیس آندھراپردیش (متحدہ) نے اردو دوستی اور اردو والوں کی حوصلہ افزائی کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں کہا کہ وہ اردو ادب کی محفلوں سے دلچسپی رکھتے جس میں شرکت کرکے انہین بھی حوصلہ ملتا ہے۔ ریاست اڑیسہ کے متوطن انوار الہادی نے کہا کہ حیدرآباد میں اردو کے لئے ایک سازگار ماحول۔ اس لئے اہل اردو دیگر ریاستوں سے یہان کھنچے آرہے ہیں۔
محترمہ عذرا سلطانہ کی دختر ثناء شریف کی جانب سے بھی اظہار خیال پر اظہار خوشنودی کرتے ہوئے کہا کہ ماں کی کتاب پر اپنے الفاظ میں اظہار کرنا اور ماں کی ادبی دلچسپیوں سے اپنے اپ کو وابستہ کرنا یہ بہت مسرت کی بات ہے جناب انوار الہدی نے کہا کہ شعر و شاعری اظہار خیال کا ایک موثر ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ شعر کہنا اور نثر نگاری بڑا ہی مشکل کام ہے اور جو لوگ یہ کام کر رہے ہیں وہ قابل ستائش ہیں۔ محترمہ عذرا سلطانہ کو ان کی تصنیف "بچھڑے مسافر” پر مبارک باد دیتے ہوئے ان کے یو پی سے حیدرآباد منتقل ہونے پر تبصرہ کرتے ہوئےجناب انوار الہدی نے کہا کہ نواب میر عثمان علی خان کے دور میں بھی کافی لوگ حیدرآباد آئے داغ دہلوی, امیر مینائی بھی حیدرآباد آئے اور یہیں کے ہو کر رہ گئے۔ علامہ اقبال بھی حیدرآباد آئے تھے۔ انہوں نے اردو والوں کو مشورہ دیا کہ وہ سول سرویسیس امتحانات میں جوابات اردو میں تحریر کریں جس کی کہ سہولت رکھی گئی ہے۔ ممتاز سماجی جہدکار وادیبہ ڈاکٹر رفیعہ نوشین نے بڑی عمدگی کے ساتھ تقریب کی کاروائی چلائی۔ اس موقع پر مہمان خصوصی جناب وسیم الرحمن آئی آرایس کمشنر انکم ٹیکس تلنگانہ،مولاناڈاکٹر محمد محامدہلال اعظمی، ڈاکٹر عبدالقدوس اسسٹنٹ پروفیسر گورنمنٹ ڈگری کالج فار ویمن حسینی علم، ڈاکٹر مختار احمد فردین نے بھی مخاطب کیا اور عذراسلطانہ کو ان کی تصنیف پر دلی مبارکباد پیش کی۔ ڈاکٹر شریف انصاری، ڈاکٹر ایمن محمد، ثناء شریف اور اریب عبداللہ نے انتظامات میں حصہ لیا۔ ڈاکٹرعذرا سلطانہ نے اپنی جوابی تقریر میں تمام مقررین سے اظہار تشکر کیا اور کہا کہ ان کی لکھی گئی کتاب "بچھڑے مسافر” کو سب لوگ پڑھیں انہوں نے اس بات کی بھی خواہش کی کہ اہل اردو اپنے آپ کو اردو کی محفلوں سے زیادہ سے زیادہ جوڑیں۔ اس تقریب میں سینیئر صحافی جناب کے این واصف، معروف مزاحیہ شاعر جناب لطیف الدین لطیف، جناب نجیب احمد نجیب ،شکیل حیدر کانپوری ،جناب خادم رسول عینی، اردو ادب نواز شخصیت محترمہ رحیم النساء صاحبہ،ڈاکٹر ثمینہ بیگم،قدسیہ تبسم ایڈوکیٹ، ڈاکٹر فہمیدہ بیگم’ محترمہ مجیب النساء( ایم ایچ کوچنگ سنٹر قاضی پورہ ) جناب محمد حسام الدین ریاض کے علاوہ دیگر معززین شہر ومحبان اردو موجود تھے محترمہ شبینہ فرشوری نے محترمہ عذرا سلطانہ کی گل پوشی کی محترمہ رفیعہ نوشین نے شال پوشی کی۔
