حیدرآباد ( راست)
پروفیسر محمد مسعود احمد چیف آپریٹنگ آفیسر رینو وا بی بی کینسر ہاسپٹل ملک پیٹ حیدرآباد نےحیدرآباد کی ممتاز و معروف سماجی و ملی خدمت گزار شخصیت جناب غلام یزدانی ایڈوکیٹ کے سانحہ ارتحال پر اپنے گہرے رنج کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جناب غلام یزدانی کی موت مشترکہ صدمہ ہے بلاشبہ انہوں نے اپنی زندگی کا ایک طویل حصہ عوامی خدمات میں گزار دیا ان کی شخصیت بردبار وباوقارتھی ان کی شخصیت سے علم کی خوشبو مہکتی تھی "اردو زبان اور عوامی خدمت ان کا اوڑھنا بچھونا تھا” مسلسل محنت اور مختلف فلاحی کام ان کے نام کو زندہ رکھنے کے لیے کافی ہیں ‘ایسی شخصیت کا دنیا سے اٹھ جانا ملت کے لیے ایک عظیم نقصان ہے۔ پروفیسر محمد مسعود احمد نے مزید کہا کہ بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کی زندگی میں لوگ انہیں یاد تو کرتے ہیں لیکن ان کے ان کے فلاحی کاموں کی وجہ سے ان کے انتقال کے بعد بھی ان شخصیات کو اور ان کی خدمات کو تادیر بھول نہیں پاتے۔
پروفیسر محمد مسعود احمد نے مزید کہا کہ عمر میں تفاوت کے باوجود جناب غلام یزدانی ایڈوکیٹ مرحوم سے میرے 30 سالہ دیرینہ تعلقات رہے ہیں اور اس تعلقات کی شروعات اردو آرٹس ایوننگ کالج حمایت نگر سے میرے طالب علمی کے زمانے سے ہوئی جناب غلام یزدانی ایڈوکیٹ مرحوم نے اردو زبان کے فروغ کے لیے اپنے آپ کو وقف کر دیا تھا اسی طرح انہوں نے پبلک گارڈن واکرس اسوسی ایشن کے قیام کے ذریعے عوام میں صحت جسمانی کا شعور بیدار کیا تھا۔ اور بزرگ لوگوں کو انہوں نے بیدر ،سنٹرل یونیورسٹی آف حیدرآباد ،عثمانیہ یونیورسٹی، انڈین اسکول آف بزنس اور چنچل گوڑہ جیل کا مطالعاتی دورہ
کروایا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جناب غلام یزدانی کی تجویز پر ہی اردو حال حمایت نگر میں بجٹ پر اردو لیکچرس کا آغاز کیا گیا تھا
انہوں نے مزید کہا کہ” حیدرآبادی یادیں -اور باتیں” تنظیم کے تحت حیدرآباد کی تہذیب و تمدن اور تاریخ کے فروغ و تحفظ کے لیے جناب غلام یزدانی نے کئی سیمینار کا اہتمام بھی کیا مسجد عالیہ گن فاؤنڈری میں محفل اقبال شناسی، تاریخ اسلام لیکچر، اور شریعت انفارمیشن سروس کے تحت انہوں نے مختلف دانشوروں اور اکابرین امت کے خیالات سے عوام الناس کو واقف کروایا "کسی بھی کامیابی کا راز کام کے تسلسل کو جاری رکھنے میں ہیے” اور یہ بات ہم نے بحیثیت مینجمنٹ پروفیسر،جناب غلام یزدانی سے سیکھی ہے جب تک کسی بھی کام میں جستجو، جنون اور جہد مسلسل نہ ہو ہمیں کامیابی نہیں مل سکتی یہ بات پروفیسر غلام یزدانی نے اپنے عمل اور کردار سے ثابت کر دکھائی ہے۔ اردو آرٹس ایوننگ کالج، اردو اورینٹل کالج حمایت نگر کے علاوہ انجمن ترقی اردو کے ذریعے انہوں نے اردو زبان کی جو خدمات انجام دی ہیں وہ ناقابل فراموش اور انمٹ نقوش ہیں اردو والوں کو چاہیے کہ وہ اب اردو زبان کی مزید ترقی اور فروغ کے لیے عملی طور پر میدان عمل میں آئیں یزدانی صاحب بلا شبہ ہر ایک کے ساتھ مشفقانہ انداز میں ملتے تھے جس کی وجہ سے ہر کوئی ان کو اپنا ہی سمجھتا تھا اور وہ دوسروں کے لیے اپنے جیسے ہی تھے اللہ تعالی سے دعا گو ہوں کہ وہ مرحوم کو جنت میں اعلی مقام عطا فرمائے اور پس ماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے
