جدہ:
جوانوں کو مری آہِ سحَر دے – پھر ان شاہیں بچوں کو بال و پر دے
خدایا! آرزو میری یہی ہے – مرا نورِ بصیرت عام کر دے
اقبال اکیڈمی جدّہ کے زیرِ اہتمام ایمپیریئم آڈیٹوریم، جدہ میں "عالمی یومِ اردو و یومِ اقبال 2025” کے موقع پر ایک نہایت پُروقار، دل کش اور ادبی فضاؤں سے مزین تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس نے سامعین کے دلوں پر دیرپا نقوش چھوڑے۔ تقریب میں مختلف نامور انٹرنیشنل مدارس کے طلبہ و طالبات نے بھرپور جوش و جذبے کے ساتھ شرکت کی اور علامہ اقبالؒ کی فکر، اردو زبان کی شیرینی اور علمی روایت سے اپنی محبت کا عملی اظہار کیا۔
تقریب کا آغاز سلیمان عمران کوثر کی پُرنور تلاوتِ قرآنِ حکیم سے ہوا۔ اس کے بعد سید عبدالکریم قادری نے کلامِ اقبال کو نہایت عشق و احترام کے ساتھ بطور نعت پیش کر کے محفل کو مدحتِ رسول ﷺ کے رنگ میں رنگ دیا۔ کمسن طلبہ محمد عبدالسمیع اقبال اور محمد عبدالمجیب اقبال نے علامہ اقبال کی شہرہ آفاق نظم "بچے کی دعا” اپنی معصوم اور دلنشین آواز میں پیش کی، جسے حاضرین نے بھرپور داد دی۔
مُعتَمَد اقبال اکیڈمی جدّہ سید عبدالوھاب قادری نے خطبۂ استقبالیہ میں مہمانانِ گرامی کا پرتپاک استقبال کیا اور تقریب کے مقاصد، اکیڈمی کے کردار اور پروگرام کے فکری پس منظر کا دل آویز خاکہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ محفل اردو کی لطافت اور فکرِ اقبال کی حرارت کا حسین امتزاج ہے، جو قلوب و اذہان دونوں کو منور کرتی ہے۔
سید ایان الدین قادری نے علامہ اقبال کی مشہور نظم "شہد کی مکھی” نہایت خوبصورتی اور دلنشین انداز میں پیش کی، جس میں موجود سبق آموز پیغام نے سامعین کے دلوں پر گہرا اثر چھوڑا۔
بعد ازاں محمد منہاج الدین (یوتھ (IAJ نے اپنے دل نشین خطاب “ آئیے اقبال سے ملیں” میں اردو زبان کی تہذیبی عظمت اور اقبال کے فکری ورثے پر جامع روشنی ڈالی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اردو محض زبان نہیں بلکہ محبت، تہذیب اور اخوت کی دھڑکن ہے جسے اقبال نے اپنے افکار کا ترجمان بنایا۔ ان کا خطاب نہایت مدلل، گہرا اور نوجوانوں کے لیے بیداریِ فکر کا ذریعہ ثابت ہوا۔
فصیح الدین سفیان نے ایک خوبصورت اردو نظم پیش کر کے ماحول کو مزید ادبی رنگ عطا کیا۔
تقریب کے اہم حصّے میں مختلف بین الاقوامی اسکولوں کے طلبہ نے اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں اعلیٰ فکری موضوعات پر نہایت شائستگی، ربط اور اعتماد کے ساتھ مدلل تقریریں پیش کیں۔ موضوعات میں فکرِ اقبال، مذہبی و اخلاقی اقدار، تعلیم، کردار سازی، معاشرتی ہم آہنگی، اردو زبان وحدت کا پیغام، عظمتِ نسواں، عشقِ رسولؐ اور عصرِ حاضر میں اقبال کی معنویت شامل تھی۔ شریک طلبہ — عبدالرحمٰن محمد، عبدالرزاق ماہر، سارہ اسرار، دانیا تناز، شِزہ شمس، سمارہ آصف شیخ، عبداللہ اجلال احمد اور مریم فاطمہ — نے اپنی پُرجوش دَم بَخُود کرنے والی تقریر وں سے سامعین کو بےحد متاثر کیا اور ہال وقفے وقفے سے تالیوں سے گونجتا رہا۔
ادبی سرگرمی کے پُررونق مرحلے میں بیت بازی (اقبالیات) کا مقابلہ ہوا، جس میں
ٹیم شاہین: مریم فاطمہ، شیخ حفظہ رضا
ٹیم شہباز: عبدالرحمٰن محمد، محمد فرحان احمد
نے حصہ لیا۔ دونوں ٹیموں نے کلامِ اقبال کے منتخب اشعار پر برجستہ اور جاندار جواب دے کر محفل کو بے حد دلچسپ بنا دیا۔ حاضرین نے طلبہ کی ذہانت، حاضر جوابی اور اعتماد کو بھرپور سراہا۔
مہمانِ خصوصی جناب عبدالقدیر حسن صدیقی نے عربی اور اردو زبان میں جامع اور فکری خطاب کیا اور طلبہ و منتظمین کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے اقبال اکیڈمی جدّہ کی خدمات کو قابلِ تحسین قرار دیا۔
صدارتی خطاب میں جناب سید وحید القادری نے قرآن و حدیث کی روشنی میں علم اور اہلِ علم کی فضیلت بیان کی اور فکرِ اقبال کے روحانی، تہذیبی اور اخلاقی پہلوؤں پر گہری روشنی ڈالی۔ ان کا خطاب سامعین کے لیے علمی، فکری اور روحانی بصیرت کا باعث بنا۔
تقریب کا فنی حسن اس وقت اور نمایاں ہوا جب انجینئر محمد یوسف نے ساز کے ہمراہ علامہ اقبال کے شہرۂ آفاق کلام شکوہ اور جوابِ شکوہ نہایت احترام، جذب اور فنکارانہ انداز سے پیش کیے، جسے حاضرین نے دل کھول کر سراہا۔ اس پیشکش میں انجینئر واجد علی اور فصیح الدین سفیان نے مؤثر معاونت کی۔
اسٹیج کی مرکزی نظامت محمد فہیم الدین (نائب صدر و جنرل سیکرٹری) نے حسب روایت نہایت شائستگی، وقار اور عمدہ زبان و بیان اور علامہ اقبال کے خوبصورت اشعار اور واقعات کے ساتھ بحسن و خوبی انجام دی اور انہوں محفل کے آغاز میں اقبال اکیڈمی جدہ اور اقبال اکیڈمی حیدرآباد کا مختر مگر جامع تعارف بھی پیش کیا۔ تقاریر اور بیت بازی کی نظامت بالترتیب حماد شہزاد خان اور سید عبدالوہاب قادری نے کی۔
پروگرام کی کامیابی اقبال اکیڈمی جدّہ کی منظم، فعال اور پُرجوش ٹیم کی مرہونِ منت رہی۔ ، میڈیا ٹیم کے محمد آصف قادری، عبدالرحمٰن اور محمد علیم (اے کے نیوز) نے یوٹیوب اور فیس بک لائیو پر راست نشریات کی کامیاب نگرانی کی، جس کے نتیجے میں ایشیا، امریکہ اور دنیا بھر سے ناظرین نے پروگرام کو براہِ راست دیکھا۔
چیف ایڈوائزر شمیم کوثرنے مہمانان گرامی کا شہ نشین پر خیر مقدم کیا ارو جلسے کے انتظامی امور کو یقینی بنایا، بشمول جوائنٹ سیکرٹری توصیف خان، ایگزیکٹو اراکین ریاض احمد، مرتضیٰ شریف صابر، معراج علی، سلمان جبران اور خیرخواہان اقبال اکیڈمی جدّہ فتح الدین فہیم، محمد عبداللہ افضل، فراز مسعود علی، سید فیاض علی صدیقی، وقار احمد خان سمیت دیگر معاونین نے بھی مؤثر خدمات انجام دیں۔
تقریب کی معنوی اہمیت میں اضافہ اس وقت ہوا جب بیرونِ ملک سے ممتاز شخصیات آن لائن پروگرام سے منسلک ہوتی رہیں، جن میں صدر اقبال اکیڈمی حیدرآباد ضیاالدین نیّر، صدر اقبال اکیڈمی جدّہ سید محمود ہاشمی، محمد عبدالمجیب صدیقی (حیدرآباد) اور محمد عبد الحق ہاشم (متحدہ عرب امارات) شامل تھے۔ سبھی نے پروگرام کے اختتام پر اپنی دلی مسرت اور مبارکباد کا اظہار کیا۔
پروگرام میں والدین، اساتذہ، مختلف تنظیموں کے نمائندگان، معزز مہمانانِ خصوصی اور دیگر ممتاز شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی، جن میں میر عارف علی (خاک طیبہ ٹرسٹ)، فاروق احمد (بزم اتحاد)، سید نعیم الدین باری، محمد یوسف وید(اردو اکیڈمی جدہ)، سید افضل الدین افضل (ادب نواز)، تاشفین سید (مجلس علم و ادب) ،پرنس مفتی ضیا، سید غضنفر ممتاز، مبصّرُالاعظم، مسرت خلیل، نوشاد عثمانی اور دیگر شامل تھے۔ انہوں نے اپنی موجودگی سے تقریب کو معنوی وقار بخشا اور اختتام پر اس کے اعلیٰ معیار پر مسرت اور تحسین کا اظہار کیا۔ والدین اور اساتذہ نے طلبہ کی محنت، لگن اور اعتماد کو دل سے سراہا، جبکہ منتظمین کی کاوشوں کو بھی بھرپور پذیرائی ملی۔۔
یہ محفل مجموعی طور پر اردو زبان سے عشق، فکرِ اقبال سے وابستگی اور علمی و تہذیبی اقدار کے فروغ کا حسین نمونہ ثابت ہوئی۔ سامعین نے منتظمین کی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اقبال اکیڈمی جدّہ مستقبل میں بھی اسی جذبے، انہماک اور معیار کے ساتھ ایسے پروگرام منعقد کرتی رہے گی۔
تقریب کے اسی حصے میں شرکائے اجلاس اور اسپانسرز کا شکریہ ادا کیا گیا۔ بعد ازاں طلبہ اور شرکاء میں توصیفی اسناد اور تحائف تقسیم کیے گئے۔آخر میں پُرتکلف عشائیے کے ساتھ محفل اختتام پذیر ہوئی۔
وقتِ فُرصت ہے کہاں، کام ابھی باقی ہے
نُورِ توحید کا اِتمام ابھی باقی ہے
