کے این واصف
سطح مرتفع دکن (جس میں تلنگانہ، کرناٹک اور مہاراشٹرا شامل ہیں) سینکڑوں کیلو میٹر پر پھیلے اس وسیع و عریض علاقے میں سینکڑوں چٹانین ایسی ہیں جنہون نے کسی سنگ تراش یا تیشہ گر کے دخل کے بغیر ازخود ایسی شکلین اختیار کر لی ہیں جنہین دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ کہتے ہیں 2500 سال کے عرصہ میں ان چٹانوں نے قدرتی طور پر یہ شکلین اختیار کین ہیں۔ یہ قدرتی فن پارے عام انسانوں کی گزرگاہوں سے دور دکن پلاٹو کے چٹیل میدانوں میں کھڑے ہیں۔ جسے حیدرآباد کے ایک نامور پکٹوریل فوٹوگرافر کے ویشویندر ریڈی نے اپنے کیمرے میں قید کیا۔ جس کے لئے اس نے میلوں کا سفر طئے کیا۔ ویشویندر نے اپنے ان تصویرون کے کلکشن کی کئی Photo Exhibitions بھی منعقد کین۔ ان قابل تحسین فوٹوز سے چند منتخب تصویرون کامجموعہ Collage بناکر قارئین کے لئے یہ فوٹو فیچر تیار کیا ہے۔
ویشویندر ریڈی نے “ راجن اسکول آف فوٹوگرافی حیدرآباد سے 1980 مین فوٹو گرافی میں ڈپلومہ کیا۔ انھون نے ایک عرصہ تک بینک میں ملازمت کی۔ اس دوران ڈاکیومنٹری فلمون مین اداکاری کی۔ پھر انہین تلگو فلمون میں کام ملنے لگا۔ بینک کی ملازمت کو خیر باد کہہ کر ہمہ وقتی طور پر اداکاری پر توجہ دی۔ آج وہ ٹالی ووڈ کے ایک کامیاب اداکار ہیں۔ مگر اب بھی اپنے پہلے عشق فوٹو گرافی سے بھی جڑے ہیں۔


