عالمی توجہ سمیٹتے ہوئے سعودی عرب نئے دور میں داخل
تحریر: ڈاکٹر سمیرہ عزیز
سعودی عرب کی حالیہ سفارتی سرگرمیوں، جن کا نقطۂ عروج ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا امریکہ کا دورہ تھا، نے دنیا بھر میں بے مثال توجہ حاصل کی۔ محض اڑتالیس گھنٹوں میں دنیا بھر میں ایک لاکھ بیس ہزار سے زائد خبری مواد شائع ہوا، جبکہ مجموعی طور پر تقریباً چار ارب افراد تک یہ کوریج پہنچی، جیسا کہ وزیرِ اطلاعات سلمان الدوسری نے تصدیق کی۔ یہ غیر معمولی عالمی ردِعمل محض ایک سیاسی دورے کا نتیجہ نہیں تھا، بلکہ اس بات کا ثبوت تھا کہ سعودی عرب اب عالمی معاملات میں تماشائی نہیں بلکہ ایک فیصلہ ساز قوت بن چکا ہے، جو ٹیکنالوجی، توانائی، دفاع اور معاشی تبدیلیوں کے عالمی مکالمے کو شکل دے رہا ہے۔
تنقید کرنے والے اکثر دعویٰ کرتے ہیں کہ سعودی۔امریکی تعلقات صرف لین دین پر مبنی ہیں، یا یہ کہ واشنگٹن، ریاض کو صرف وسائل کا مرکز سمجھتا ہے۔ یہ سوچ ایک ایسی شراکت کو انتہائی محدود انداز میں دیکھتی ہے جو اسی برسوں پر محیط ہے اور تیل سے بہت آگے بڑھ چکی ہے۔ اس شراکت کا آغاز تیس کی دہائی میں ہوا، جب شاہ عبدالعزیز نے تیل کی تلاش کے حقوق دیے، جو آگے چل کر آرامکو کی بنیاد بنے۔ ستر کی دہائی میں قائم ہونے والی سعودی۔امریکی مشترکہ اقتصادی کمیٹی نے جدید سعودی ریاست کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں اہم کردار ادا کیا۔ آج یہ تعلق اپنا تیسرا مرحلہ اختیار کرچکا ہے — یعنی مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل تعاون کا دور — جہاں انحصار نہیں بلکہ مشترکہ ترقی بنیادی عنصر ہے۔
حال ہی میں سیاسیات کے ماہر گریگوری گاؤس نے کہا تھا کہ بظاہر امریکہ سعودی عرب کو ’’صرف سرمایہ‘‘ کا ذریعہ سمجھتا ہے۔ مگر ان کی اپنی تنقید یہ ظاہر کرتی ہے کہ واشنگٹن کو ریاض کی ضرورت محض سرمایہ کے لیے نہیں، بلکہ علاقائی قیادت، ڈیجیٹل صلاحیت اور اسٹریٹجک استحکام کے لیے بھی ہے۔ انہوں نے خود اعتراف کیا کہ اگر سعودی عرب اور امریکہ ایک مشترکہ مرکزِ ڈیٹا قائم کرتے ہیں تو یہ ’’امریکہ کے تحفظ کی بہترین ضمانت‘‘ ہوگا۔ یہ اعتراف برسوں پرانی خلیجی غلط فہمیوں کو ختم کرتا ہے اور سعودی عرب کو عالمی ٹیکنالوجی کے مرکز میں کھڑا کرتا ہے۔
ولی عہد کی یہ ملاقات اسی نئے عالمی تناظر سے ہم آہنگ تھی۔ مصنوعی ذہانت ، دفاع، ایٹمی توانائی، کلاؤڈ پر مبنی ڈھانچے اور جدید صنعتوں کے شعبوں میں متعدد معاہدے کیے گئے۔ صرف آرامکو نے امریکی اداروں کے ساتھ سترہ مفاہمتی یادداشتیں طے کیں جن کی مالیت تیس ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔ سعودی عرب کی ابھرتی ہوئی کمپنی ’’ہیومن‘‘ نے بھی بڑی امریکی کمپنیوں کے ساتھ اشتراک کیا تاکہ پانچ سو میگاواٹ کی گنجائش رکھنے والا مرکزِ ڈیٹا قائم کیا جا سکے، جو مستقبل کی ایپلی کیشنز کے لیے بنیاد ہوگا۔ معروف عالمی جریدے نے ’’ہیومن‘‘ کو مستقبل کے عالمی کلاؤڈ نظام کا اہم محور قرار دیا — جس سے واضح ہوتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی دوڑ اب صرف ایک خطے تک محدود نہیں رہی۔
یہ ترقی محض نظریاتی باتیں نہیں بلکہ براہِ راست قومی ترقی کی صورت میں سامنے آرہی ہے۔ اکتوبر دو ہزار چوبیس تک سعودی عرب میں تجارتی اندراجات کی تعداد اٹھارہ لاکھ تک پہنچ گئی — جو گزشتہ برس کی نسبت اٹھارہ فیصد زیادہ ہے۔ دفاعی اخراجات کے مقامی بنانے کی شرح پچیس فیصد تک پہنچ گئی ہے، جبکہ دو ہزار تیس تک اسے پچاس فیصد تک پہنچانے کا ہدف ہے۔ سرمایہ کاری برائے ثقافت دو ہزار پچیس کی کانفرنس کے دوران پانچ ارب ریال سے تجاوز کر گئی، جس سے تخلیقی معیشت اور قومی شناخت دونوں مضبوط ہوئے۔ سیاحت کے شعبے میں بھی بڑا فروغ ہوا، جہاں ایک سو بیس ممالک کی شرکت کے ساتھ ریاض عالمی فورم کے دوران ایک سو تیرہ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ریکارڈ ہوئی — جو عالمی سطح پر سعودی عرب پر بڑھتے اعتماد کا ثبوت ہے۔
جو لوگ سعودی سفارت کاری کو صرف تیل تک محدود سمجھتے ہیں، وہ اس حقیقت کو نظرانداز کر دیتے ہیں کہ مملکت اب خطّے کی سب سے بڑی ڈیجیٹل معیشت ہے، مصنوعی ذہانت اور کلاؤڈ سرمایہ کاری کا مرکز ہے، اور توانائی کے تنوّع میں بنیادی کردار ادا کر رہی ہے۔ دو ہزار چوبیس میں سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان باہمی تجارت چھبیس ارب ڈالر کے قریب رہی، جبکہ سعودی سرمایہ کاروں کی امریکی معیشت میں سرمایہ کاری ساڑھے نو ارب ڈالر سے زیادہ رہی، جو زیادہ تر ٹرانسپورٹ، جائیداد اور جدید گاڑیوں کی صنعت میں ہے۔
سعودی۔امریکی روابط ہمیشہ عالمی حالات کے مطابق بدلتے رہے ہیں۔ انیس سو پینتالیس میں شاہ عبدالعزیز اور صدر روزویلٹ کی تاریخی ملاقات سے لے کر واشنگٹن میں متوقع ٹرمپ۔محمد بن سلمان ملاقات تک، ہر دور نے اس شراکت میں نئی جہتیں پیدا کی ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ آج سعودی عرب یہ تعلق ایک مضبوط معیشت، داخلی استحکام اور بلند تکنیکی امنگوں کے ساتھ آگے بڑھا رہا ہے — نہ کہ کسی انحصار کی بنیاد پر۔
اسی وجہ سے ولی عہد کا یہ دورہ عالمی سطح پر گونج اٹھا۔ اس نے دنیا کو دکھایا کہ مملکت ایک تیل پر مبنی معیشت سے جدت پر مبنی معاشرے کی طرف بڑھ رہی ہے۔ اس نے عالمی سرمایہ کاروں کو یقین دلایا کہ سعودی عرب ایک مستحکم، دوراندیش اور قابلِ اعتماد شراکت دار ہے۔ اور اس نے اُن پرانی سوچوں کو چیلنج کیا جو برسوں تک مملکت کو محدود زاویوں سے دیکھتی رہیں۔
سعودی عرب نہ تنہائی اختیار کر رہا ہے، نہ کسی سطحی اتحاد کا خواہاں ہے، بلکہ ایک ایسا مستقبل تعمیر کر رہا ہے جو انسانی سرمائے، معاشی لچک اور عملی بین الاقوامی اتحادات پر قائم ہو۔ ولی عہد کے دورے پر دنیا کا بھرپور ردِعمل یہ ظاہر کرتا ہے کہ عالمی برادری اس نئے سعودی کردار کو پوری طرح سمجھ رہی ہے۔
تنقید خواہ جاری رہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ مملکت کے اقدامات بالغ نظری، ذمہ داری اور طویل المدت وژن کی عکاسی کرتے ہیں — وہ خصوصیات جن کے بغیر کوئی ملک عالمی کردار ادا نہیں کر سکتا۔
سعودی عرب نے واشنگٹن میں صرف معاہدے نہیں کیے — اس نے دنیا کے سامنے اپنی نئی شناخت پیش کی۔ ایک ایسی قوم جو اپنے مستقبل کی سمت خود متعین کر رہی ہے اور ایک زیادہ باثبات اور جدید عالمی نظام میں اپنا حصہ ڈال رہی ہے۔
مصنفہ کے بارے میں:

ڈاکٹر سمیرہ عزیز سعودی عرب کی سینئر صحافی، کاروباری شخصیت، مصنفہ، شاعرہ اور بین الثقافتی تجزیہ کار ہیں، اور جدہ میں مقیم ہیں۔ آپ ابلاغیات میں پی ایچ ڈی کی حامل ہیں اور مملکت میں خواتین صحافت کی اولین شخصیات میں سے ہیں۔ آپ وژن دو ہزار تیس کی مضبوط حامی ہیں۔
رابطہ Consultant.sameera.aziz@gmail.com :
