حیدرآباد ۔ انجمن ریختہ گویان حیدرآباد کے زیراہتمام نیوگورنمنٹ ڈگری کالج برائے نسواں گولکنڈہ میں اصناف سخن گوئی کی نشست کا اہتمام کیا گیا تھا۔ جس کی صدارت کالج کی پرنسپل پروفیسر ٹی سری لکشمی نے کی اور اپنے خطاب میں کہا کہ اردو ایک زبان ہی نہیں اس ملک کی تہذیب ہے، ایک مخصوص مہذب لب ولہجہ ہے۔ اپنے خطاب کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اردو اس ملک کی زبان اس ملک کی شان ہے وہ خود اس زبان کو سیکھ رہی ہیں اور انہوں نے اس موقع پر داغؔ دہلوی کا مشہور شعر پڑھا۔ ”اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغ“۔ تقریب کی مہمان خصوصی پروفیسر آمنہ تحسین نے اردو زبان کے اصناف کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا رباعی، موضوعاتی نظمیں اور افسانوں میں تعلیم اور اقدار پر بہت کچھ لکھا گیا ہے اس پر طالبات کو غور کرنا چاہئے، صرف امتحانی نکتہ نظر سے نہیں پڑھنا چاہئے۔ انگریزی کے لکچر ر ڈاکٹر رجنیش نے اردو زبان کی مٹھاس کو شیرقورمہ سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے والد اور دادا ہندو ہوتے ہوئے بھی نہ صرف اردو بلکہ فارسی زبان پر بھی عبور رکھتے تھے۔گو یا ان کا گھرانہ بھی گنگاجمنی تہذیب کا گہوارہ تھا۔ وہ اردو بولنے والوں سے محبت و عقیدت سے ملتے ہیں۔ انہوں نے اردو کے معروف اشعار سناکرداد وتحسین حاصل کی۔ ڈاکٹر جاوید کمال نے اصناف سخن گوئی کے اغراض ومقاصد بیان کرتے ہوئے کہا ہمارا مقصد نئی نسل کو اردو کے عظیم اثاثہ سے واقف کروانا ہے اور معدوم ہوتی ہوئی اردو تہذیب کو پھر سے ایک نئی زندگی بخشنا ہے۔ انہوں نے کالج کی پرنسپل اور وائس پرنسپل ڈاکٹر حمیرہ سعید جو اصناف سخن گوئی کی کنوینر بھی ہیں کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اپنے کالج میں ایک کامیاب اور خوبصورت تقریب کا اہتمام کیا۔ ڈاکٹر حمیرہ سعید نے ابتداء میں مہمانوں کا خیرمقدم کیا۔ ڈاکٹر گل رعنا، ڈاکٹر عطیہ مجیب عارفی، رفیعہ نوشین، لطیف الدین لطیف، جاویدمحی الدین، واجد محی الدین نے افسانہ، انشائیہ، نظمیں اور ڈراما پیش کیا۔ کالج کی طالبات سدرہ عارف، عرفہ ماہین، سکینہ بیگم، اسماء بی بی اور آمنہ بی بی نے بھی مختلف اصناف پیش کیں۔ لطیف الدین لطیف نے نہایت پراثرانداز میں تقریب کی کارروائی چلائی۔ اجلاس مین کے این واصف، نجیب احمد نجیب، ابومسعود، جناب بصیرخالد اور ابوعمر نے شرکت کی۔ کالج کی طالبہ کے شکریہ پر اس شاندار تقریب کا اختتام عمل میں آیا۔
