کے این واصف
جرائم کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی انسانی تاریخ۔ وقت کے ساتھ ان کی نویت اور اقسام مین تبدیلیاں اور اضافے ہوتے رہے ہین۔ جرائم کی فہرست مین سائبر کرائم نیا اضافہ ہے۔ ان جرائم پر قابو پانے کا ہر ملک مین کام ہورہاہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق سعودی عرب، سائبرسکیورٹی انڈیکس میں عالمی سطح پر بدستور سرفہرست ہے۔
سوئٹزرلینڈ کے انسٹی ٹیوٹ فار مینجمنٹ ڈیولپمنٹ کے عالمی مسابقی مرکز کی جانب سے جاری رپورٹ میں مملکت کو سال 2025 کے لیے سرفہرست قرار دیا گیا ہے۔
سعودی خبر رساں ایجنسی “ایس پی اے” کے مطابق اس حوالے سے قومی سائبرسکیورٹی اتھارٹی کے چیئرمین و وزیر مملکت اور رکن کابینہ ڈاکٹر مساعد بن محمد العیبان نے سعودی قیادت کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا اس کامیابی کی بنیاد حکومتی سرپرستی، دانشمندانہ قیادت اورمستقل نگرانی ہے جس سے سعودی سائبر سکیورٹی کے نظام کو عالمی سطح پر صفِ اول میں شمار کیا جارہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا یہ کامیابی یک دم حاصل ہونے والا اعزاز نہیں بلکہ مملکت کے وژن 2030 کے تحت ریاست کی سائبر خود مختاری اور ڈیجیٹل ذرائع میں خود کفالت کے لیے اختیار کردہ حکمت عملی کا ثمر ہے۔
ڈاکٹر العیبان نے کہا کہ سعودی سائبرسکیورٹی ماڈل اب دیگر ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ممالک کے لیے ایک قابلِ تقلید مثال بن چکا ہے۔
ماہرین کا خیال ہے اس شعبے میں اگر ترقی کی یہی رفتار برقرار رہی تو مملکت نہ صرف سائبر حملوں کے خطروں سے اپنی حفاظت کو یقینی بنائے گا بلکہ ڈیجیٹل معیشت میں بھی قائدانہ کردار ادا کرے گی۔
