کے این واصف
اسرائیلی وزیر آعظم بنجامن نتین یاہو نے نفرت کی سیاست کے پرانےکھیل میں اپنے ساتھ اپنے دوست امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی بھی لٹیا ڈوبو دی۔ وسط مدّتی انتخابات کے بعد امریکہ کے میڈیا میں اب ٹرمپ کو “لنگڑی بطخ” (معطل القوا) کہا جارہا ہے۔ نتین یاہو نے ٹرمپ کے ساتھ اس معاملے میں پرانی ضرب المثل “ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے” دہرا دی۔
بہر حال امریکہ کے وسط مدتی انتخابات نے یہ ثابت کردیا کہ عوامی مسائل کو پسِ پشت ڈال اقتدار کی کرسی پر جمے رہنے کے لئے نفرت کی سیاست کا کھیل زیادہ عرصہ نہیں چل سکتا۔ سربراہاںِ حکومت کو یاد رکھنا چاہئیے کہ جمہوری نظام میں جو اقتدار دے سکتے ہیں وہ اقتدار چھین بھی سکتے ہیں۔ مختصر یہ کہ “اگلا گرا پچھلا ہوشیار”۔
