“محفل عصرانہ” سے ڈاکٹرآہو جہ، پروفیسر مسعود احمد، ثناالرحیم، نجیب احمد نجیب اور جہانگیر قیاس کا خطاب۔
حیدرآباد (راست)
خوشگوار اور پرسکون زندگی گزارنے کے لیے ہمیں اپنے طرز زندگی میں تبدیلی لانا بہت ضروری ہے۔ خوش اخلاقی، مثبت سوچ و فکر، سونے جاکنے، کھانے پینے کے طور طریقے اور جسمانی ورزش کے علاوہ دیگر ایسے امور ہیں جس سے ہم اپنی زندگی کو صحتمند اور پرسکون بنا سکتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر محمد مسعود احمد چیف آپریٹنگ افیسر رینووا بی بی کینسر ہاسپٹل ملک پیٹ حیدرآباد نے ایوان احمد کی 17ویں ادبی نشست بعنوان “ہمارا طرز زندگی” سے ایوان احمد علی عبداللہ انکلیو ملک پیٹ میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔
تقریب کی صدارت معروف استاد شاعرڈاکٹر فاروق شکیل نےکی۔ صدر بزم احمدحسین جناب منور حسین نے بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کی۔ پروفیسر مسعود احمد نے کہا کہ متعدد بیماریاں ہماری طرز زندگی سے تعلق رکھتی ہیں۔ ہم نفسون سے حسن سلوک سے ہی کسی شخصیت کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہمیشہ اپنے آپ کو دماغی تناؤ سے آزاد رکھیں۔ اس کے علاوہ جسمانی ورزش بھی ہماری صحت و تندرستی کی ضمانت ہے۔ موجودہ دور میں ابتدائی عمر سے صحت کے مسائل درپیش ہوجاتے ہیں۔
اس موقر پر ممتازشاعرجناب جہانگیر قیاس نے کہا کہ کھر کا ماحول کا خوشگوار ہونا ذہنی سکون اور اچھی صحت کی ضمانت ہوسکتی ہے۔ گھرون میں پرسکون ماحول کے اپنی بیٹی اور بہو میں تفریق نہ رکھین۔ ساس بہو ہردو ایک دوسرے کے احترام کا خیال رکھین۔
معروف شاعر جناب نجیب احمد نجیب نے کہا کہ ہمارا معاشرہ وقت کی پابندی سے مکمل طور پر لاپرواہ ہو گیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اسے وقت سے کوئی سروکار ہی نہیں کسی بھی تقریب کی بات ہو یا پھر مشاعروں کی محفل یا کسی بھی اجتماعی کاز کا معاملہ ہو وقت کا کوئی خیال ہی نہیں رکھا جاتا ہے۔ خصوصاً شادی کے تقاریب میں وقت کا بالکل خیال نہیں رکھا جاتا۔ اس سے مدعوئین کو زحمت کا سامنا ہوتا ہے۔ اور یہی حال ادبی محافل اور اجتماعات کا بھی ہے۔ داعیِ تقریب خود گھنٹوں تاخیر نمودار ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایوان احمد کی "محفل عصرانہ” کی قابل تقلید و قابل تعریف بات یہ ہے کہ یہاں وقت کی پابندی کی جاتی ہے اس کے لیے پروفیسر مسعود احمد قابل مبارکباد ہیں۔ یہاں کی محفل وقتُِ مقررہ پر شروع اور ختم ہوتی ہے۔ انہوں نے ادبی محفلیں اور شعری محفلیں منعقد کرنے والوں کو کہا کہ وہ ایوان احمد کی محفلوں کی تقلید کریں۔ شاعر جناب سہیل عظیم نے بھی "ہماری طرز زندگی” عنوان پر مختصر سا مضمون پیش کیا۔ ڈاکٹر ٹی ایس آہو جا ڈائریکٹر آہو جا انٹر پرائزز نے کہا کہ ایوان احمد کی یہ ادبی و شعری محفل ہر لحاظ سے قابل ستائش ہے انہوں نے نوجوانوں میں شعری ذوق کی ضرورت کو ناگزیر قرار دیا۔
جناب ثنا الرحمن ریٹائرڈ ایگزیکٹو انجینیئر جی ایچ ایم سی نے کہا کہ ایوان احمد میں سنجیدہ و معیاری شعرا کے کلام کو سننے کا موقع ملا انہوں نے پروفیسر مسعود احمد کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اس قسم کی محفلیں قابل ستائش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو اس طرح کی محفلوں سے جوڑا جائے۔
سینیئر صحافی جناب کے اینواصف نے کہا کہ ایوان احمد کی یہ محفل ہر طرح سے قابل مبارک باد ہے کہ یہان وقت کی پابندی کا خیال رکھا جاتاہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں پروفیسر محمد مسعود احمد کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ نثر نگاروں کے لیے بھی اس طرح کی محفلیں منعقد کی جائیں تو مناسب ہوگا۔
اجلاس کی کاروائی جناب فرید سحر نے بڑی ہی عمدگی کے ساتھ چلائی۔ کنوینر جناب محمد حسام الدین ریاض نے خیر مقدم کیا ڈاکٹر فاروق شکیل کی صدارت میں مشاعرہ منعقد ہوا صدر مشاعرہ کے علاوہ مولانا صوفی سلطان شیطانی، طاہر گلشن آبادی، فرید سحر، پروفیسر مسعود احمد احمد، فصیح الدین المعروف فکر نلگنڈوی، ڈاکٹرآہو جہ، جناب نجیب احمد نجیب سید مصطفی علی سید، جناب محمد ثنا اللہ انصاری وصفی، جناب تجمل گلریز، جناب سہیل عظیم نمعروف مزاحیہ شاعر جناب لطیف الدین لطیف کلام پیش کیا۔
سید افتخار الدین فہیم، ڈاکٹر محمد ناظم علی، جناب محمد معز الدین صدیقی، جناب محمد عارف یوسف، جناب محمد معین الدین، جناب محمد حسن الدین، جناب ایم ایچ اے صدیقی، جناب سید حمید، جناب سید مجتبی عابدی، جناب حیدر علی خان، جناب محمد اعظم علی، جناب شکیل وصی اور جناب احمد عبدالستار خان علیم اور دوسروں نے شرکت کی۔
