ایم آئی ظاہر (جودھپور، راجستھان)
اردو جب کسی دل میں اترتی ہے تو صرف زبان نہیں رہتی، نسبت بن جاتی ہے، پھر وہ نسبت ہجرت میں بھی ساتھ چلتی ہے۔ سید مہتاب قدر اسی نسبت کا نام تھے۔ حیدرآباد دکن کی تہذیبی مٹی میں جنم لینے والا یہ چراغ، جدہ کے صحراؤں میں برسوں تک جلتا رہا۔ اور اب یہ چراغ بجھ گیا ہے۔
معروف شاعر، ادیب، صحافی اور کالم نگار مہتاب قدر کے انتقالِ پُرملال کی خبر نے سعودی عرب کے ادبی حلقوں کے ساتھ ساتھ برصغیر ہند و پاک کے اہلِ قلم کو سوگوار کر دیا۔ وہ ان اہلِ قلم میں شامل تھے جنہوں نے پردیس کی زندگی میں اردو سے اپنا رشتہ محض برقرار ہی نہیں رکھا، اسے اپنی تخلیقی اور صحافتی سرگرمیوں سے مزید مضبوط بنانے کی کوشش کی۔ جب25 ستمبر 2026 کو ان کے سانحہ ارتحال کی خبر ملی تو یقین نہیں ہوا، ابھی منگل ہی کو تو ان کے بات ہوئی تھی۔ ان کی وفات نہ صرف جدہ بلکہ برصغیر کی اردو ادبی فضا کے لیے ایک اہم نقصان ہے اور خاکسار کے لئے بھی ذاتی صدمہ ….
حیدرآباد دکن سے جدہ تک ایک ہی نام تھا۔۔
اصل نام سید سرفراز علی اور قلمی نام مہتاب قدر۔ وہ 15 مئی 1957 کو حیدرآباد دکن میں پیدا ہوئے۔ اسی دکن میں جہاں محمد قلی قطب شاہ نے اردو کو تخت بخشا تھا، وہیں ان کا ذوق پروان چڑھا۔ قدر کی شاعری کا آغاز 1971 میں ہفت روزہ نشیمن سے ہوا، تب سے یہ سفر کبھی نہیں رکا۔
وہ ان تارکینِ وطن میں سے تھے جو گیسوئے اردو سنوارنے میں ہمہ تن مصروف رہے۔ روزگار انہیں جدہ لے گیا، مگر انہوں نے جدہ کو ہی اردو کا دوسرا گھر بنا دیا۔ حیدرآباد دکن کی مٹی ہتھیلی پر لے جانے والے لوگ مٹی نہیں، خوشبو لے جاتے ہیں۔ مہتاب قدر اسی خوشبو کا نام ہیں۔ سعودی گزٹ، اردو نیوز اور خلیجی اردو میڈیا نے بارہا انہیں حیدرآباد دکن سے تعلق رکھنے والے مقامی شاعر اور اردو گلبن کے صدر کے طور پر خوب یاد کیا۔
اردو گلبن: صحرا میں چھاؤں کا نام
ان کی سب سے بڑی اور روشن پہچان اردو گلبن ہے۔ یہ جدہ سے شائع ہونے والا معروف پندرہ روزہ ادبی جریدہ اور آن لائن پلیٹ فارم ہے۔ اس کا قیام 2006 میں عمل میں آیا اور اسے خلیج کی پہلی اردو ویب سائٹ کا اعزاز حاصل ہوا۔ اس کی ویب سائٹ اردو گلبن ڈاٹ کام آج بھی فعال ہے اور خالص علمی و معاشرتی اقدار کی ترویج کے لیے کوشاں ہے۔
سعودی گزٹ لکھتا ہے کہ معروف شاعر اور اردو گلبن ڈاٹ کام کے صدر مہتاب قدر نے مہمانوں کا خیر مقدم کیا اور تقریبات کی نظامت کی۔ وہی مہتاب قدر جو کبھی مشاعرے کے صدر ہوتے، کبھی نظامت کی مسند پر۔ تعمیر نیوز پر ان کی خبریں مہتاب قدر راقم الحروف کے نام سے شائع ہوتی رہیں۔ وہ خبریں خوب لکھتے بھی تھے اور خبر بناتے بھی تھے. ٭صحرا میں اردو کا چراغ روشن کیا
انہوں نے جدہ میں حلقۂ اربابِ ذوق جدہ کی بنیاد رکھی۔ یہ حلقہ صرف ایک تنظیم نہیں تھا، تارکینِ وطن کے درمیان اردو کی آبیاری کا مرکز تھا۔ اس حلقے کے ذریعے شعراء اور ادباء کو اپنی تخلیقات پیش کرنے، ادبی گفتگو کرنے اور ایک دوسرے سے رابطہ رکھنے کا موقع ملا۔ بیرونِ ملک کسی ادبی حلقے کو قائم کرنا اور اسے مسلسل سرگرم رکھنا آسان کام نہیں، کیونکہ یہاں اہلِ قلم اپنی پیشہ ورانہ مصروفیات کے ساتھ ذوق کو زندہ رکھتے ہیں۔ مہتاب قدر نے اسی ماحول میں اردو کی محفلوں کو زندہ رکھنے کی کوشش کی۔ ہر ماہ کسی نہ کسی مقام پر چراغ جلتا رہا۔
*عالمی مجاہدِ اردو ایوارڈ اور مہتاب قدر
اسی ادارے نے عالمی مجاہدِ اردو ایوارڈ کا اجرا کیا۔ 14 فروری 2018 کی اردو نیوز رپورٹ کے مطابق زبان اور ادب کے فروغ کے لیے اردو گلبن کا قیام عمل میں آیا۔ ان کا قول تھا کہ اردو کو کسی سرکار سے خطرہ نہیں، اردو والے ہی اردو سے سروکار نہیں رکھتے۔ یہی درد ان کی صحافت کا محرک تھا۔
٭ان کا ادبی سرمایہ اور آنے والی کتابیں
مہتاب قدر کی شخصیت کو صرف ایک شاعر یا صحافی کے حوالے سے یاد کرنا ان کی مجموعی خدمات کا احاطہ نہیں کر سکتا۔ وہ ایک ایسے ادبی شخصیت تھے ،جنہوں نے اردو کے لیے ماحول بنایا۔
ان کا اولین شعری مجموعہ *چھاؤں صحرا کی(2013) ہے- یہ ان کی مصدقہ تصنیف ہے۔ عنوان خود ایک استعارہ ہے۔ صحرا میں چھاؤں نہیں ہوتی، اسے بنانا پڑتا ہے۔ مہتاب قدر نے جدہ کے ادبی صحرا میں یہ چھاؤں اپنے قلم سے بنائی۔
٭ان کی دوسری معروف کتاب “تھوڑی سی آوارگی” ہے، جس نے ادبی حلقوں میں پذیرائی حاصل کی۔ انہوں نے عربی اور فارسی سے شعری ترجمے بھی کیے ہیں۔
٭ان کا دوسرا شعری مجموعہ “سبز صحرا” زیرِ ترتیب تھا، اور دیگر تصانیف “مہتابیاں” (طنزیہ و مزاحیہ نظم و نثر)، “نظریاتِ مہتاب قدر” (مضامین و مقالے)، “شخصیات جن سے ہم ملے” (خاکے)، “شذرات” (قطعات) اور “ہمارے نغمے” (نظمیں) جلد شائع ہونے والی فہرست میں ہیں۔ یہ فہرست بتاتی ہے کہ ان کے پاس کہنے کو ابھی بہت کچھ باقی تھا۔٭شاعری میں ہجرت اور خوشبو۔
ان کا قلم صرف صحافت تک محدود نہیں تھا۔ شاعری ان کی تخلیقی شخصیت کا بنیادی حوالہ تھی۔ سعودی عرب میں قیام نے ان کی شاعری کو ایک ایسا تجربہ دیا جس میں پردیس، وطن کی یاد، انسانی رشتے، بدلتے ہوئے حالات اور زندگی کے رنگ شامل تھے۔
سعودی گزٹ کی مصدقہ مشاعرہ رپورٹ میں ان کا وہ شعر محفوظ ہے جو ان کی پہچان بنا اور جو اس مضمون کا عنوان ہے:
جب چٹکتی ہے کلی، پھول مہک اٹھتا ہے
اپنے لٹ جانے کا ماتم ہے گلوں کی خوشبو
کیا سادہ اور کیا گہرا شعر ہے۔ کلی کا چٹکنا زندگی ہے، پھول کا مہکنا اس کا حاصل ہے، اور اسی مہک میں لٹ جانے کا ماتم پوشیدہ ہے۔ یہی ان کی زندگی کا خلاصہ تھا۔
ہجرتوں کا دکھ انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں کچھ یوں کہا:
ہجرتوں سے نظر ہٹاؤ میاں
گھر بلانے لگے ہیں آو میاں
پہلے گھر کی ذرا خبر لے لو
پھر کہیں بھی دیے جلاؤ میاں
ایک طرف صحرا کی سخت حقیقتوں میں چھاؤں کی تلاش، دوسری طرف گھر کی خبر لینے کی صدا۔ یہی وہ آواز ہے جس میں بیرونِ ملک اردو بولنے والے انسان کی ذہنی اور جذباتی دنیا بولتی ہے۔
*وہ جملہ جو ہر شمارے پر لکھا رہا
ان کی یاد میں وہ مصرعہ ایک مناسب استعارہ ہے جو مرحوم اپنے مجلہ اردو گلبن کے ہر شمارے کے سرورق پر جلی حرفوں میں لکھتے تھے:
ہم نے خوشبو کے بند کھول دیے
اب ہوا تری ذمہ داری ہے
مہتاب قدر نے اپنی زندگی میں اردو ادب کے لیے خوشبو کے کئی بند کھولے۔ جدہ کی ادبی محفلوں سے لے کر اردو گلبن کے صفحات تک اور چھاؤں صحرا کی سے لے کر تھوڑی سی آوارگی تک، ان کی کوششیں اردو کی اسی خوشبو کو پھیلانے کا ذریعہ بنیں۔ وہ ادب کو صرف کتابوں اور مشاعروں تک محدود رکھنے کے قائل نہیں تھے۔ ادبی تنظیم، رسالہ، ملاقات، مکالمہ اور نئی تخلیقات کی حوصلہ افزائی بھی ادب کی خدمت کا حصہ ہے۔ اسی وسیع تصور نے انہیں جدہ کی ادبی سرگرمیوں میں فعال رکھا۔
٭آخری چراغ
آج مہتاب قدر ہمارے درمیان نہیں ہیں، لیکن ان کے الفاظ، ان کی کتابیں اور ان کی قائم کردہ روایت موجود ہے۔ کسی شاعر کی اصل زندگی اس کے جانے کے بعد اس کے کلام میں جاری رہتی ہے اور کسی ادبی کارکن کی محنت ان اداروں میں زندہ رہتی ہے جنہیں اس نے مضبوط کیا۔
ان کے انتقال کے بعد سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ان کے ادبی کام کو کس طرح محفوظ کیا جائے۔ ان کی شائع شدہ کتابیں، اردو گلبن کے شمارے، صحافتی تحریریں اور حلقۂ اربابِ ذوق سے وابستہ یادیں ایک ایسے دور کی دستاویز ہیں جس میں سعودی عرب میں اردو ادب نے اپنی الگ شناخت بنانے کی کوشش کی۔ اگر اس منتشر سرمایے کو یکجا کر کے محفوظ کیا جائے تو یہ مرحوم کے لیے خراجِ عقیدت بھی ہوگا اور سعودی عرب کی اردو ادبی تاریخ کا قیمتی سرمایہ بھی۔
برصغیر سے خلیج تک گونجنے والی یہ آواز اب خاموش ہو گئی ہے۔ حیدرآباد دکن میں ان کا انتقال اس بات کی علامت ہے کہ مسافر آخر کار اپنے گھر لوٹ آیا۔ صحرا میں چھاؤں تلاش کرنے والا خود چھاؤں بن گیا، اور پھولوں کی خوشبو میں اپنا ماتم چھوڑ گیا۔ صرف دکن ہی نہیں، پوری اردو برادری اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، انہیں اپنی رحمت میں جگہ عطا فرمائے، اہلِ خانہ، احباب اور تمام سوگواران کو صبرِ جمیل دے۔ مہتاب قدر رخصت ہو گئے، مگر ان کی شاعری اور ادبی خدمات کی خوشبو باقی ہے، اور خوشبو کا سفر کبھی ختم نہیں ہوتا۔
