“اصناف سخن گوئی” کے زیر تحت “صحافت کے رنگ صحافیوں کے سنگ” تقریب۔
حیدرآباد (راست )
صحافت جمہوریت کا چوتھا ستون ہے تاہم اردو صحافت نازکدور سے گزر رہی ہے اس کے باوجودقاریین و ناظرین کی بہت بڑی خدمت انجام دے رہی ہے ماضی بعید میں جب مسلم اقلیت بے سرو سامانی کے دور سے گزری تھی اردو اخبارات نے اس وقت بھی اردو والوں کو نہ صرف حالات سے باخبر رکھا بلکہ جینے کی امیدیں بھی جگائیں۔ ان خیالات کا پروفیسر ایس اے شکور ڈائریکٹر دائرۃ المعارف عثمانیہ یونیورسٹی نے کیا۔ وہ انجمن ریختہ گویان کے زیر اہتمام روزنامہ منصف کے اشتراک سے محفل اصناف سخن گوئی کے موضوع بہ عنوان "صحافت کے رنگ صحافیوں کے سنگ "سے خطاب کررہے تھے۔ یہ محفل روزنامہ منصف حیدرآباد کے کانفرنس ہال “خان لطیف خان اسٹیٹ” فح میدان حیدرآباد میں منعقد ہوئی۔ اس محفل میں صحافیوں کی خدمات کا اعتراف بھی کیا گیا۔
پروفیسر ایس اے شکور نے مزید کہا کہ ہر دور میں صحافت کی اہمیت رہی ہے موجودہ دور میں اس کی اہمیت میں مزید اضافہ ہو ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحافت ہی کے نتیجے میں کاکروچ پارٹی کو بہت ہی مختصر سے عرصہ میں بڑے پیمانے پر شہرت حاصل ہوئی ہے۔ پروفیسر شکور نے یہ بھی کہا کہ صحافتی میدان میں سرمایہ دارانہ نظام کی وجہ سے صحافتی ماحول متاثر ہو کر رہ گیا ہے۔ سیاسی جماعتوں نے اپنا چینل اور اپنے اخبار شروع کر دیے ہیں جس کے باعث ہر اخبار اپنے اپنے مفاد کی خبریں شائع کرنے کے باعث عوام خبروں سے مکمل طور پر مطمئن نہیں ہو رہے ہیں۔ انہوں نے موجودہ حالات پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ جن گھروں میں اب اردو اخبارات آتے ہیں ان گھروں میں بزرگوں کے گزرجانے کے بعد اردو اخبارات بند کر دیے جا رہے ہیں۔ جس نئی نسل تک اردو اخبار پہنچ نہین پارہے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ ہم اپنے بچوں کو چاہے وہ کسی بھی میڈیم سے تعلیم حاصل کریں انہیں ابتدا ہی سے خانگی طور پر اردو لکھنا پڑھنا سکھائیں۔ ممتاز سینیئر صحافی وسابق رکن پریس کونسل آف انڈیا جناب ایم اے ماجد نے انکشاف کیا کہ "سیاسی رنگ میں تبدیلی آنے والی ہے اوراب اردو صحافت کی آواز بہت اہم ہوگی” انہوں نے اردو صحافیوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اردو کے صحافی موجودہ دور کے مجاہد ہیں۔ جناب ایم اے ماجد نے سابق ایڈیٹر روزنامہ منصف جناب خان لطیف خان مرحوم کی خدمات کو خراج عقیدت بھی پیش کیا۔ انھون کہا کہ صحافت ہر دور میں مختلف رنگوں میں ڈھلتی رہی مولانا محمد علی جوہر اور مولانا ابوالکلام آزاد نے ایک بامقصد عزم کے ساتھ صحافت کے ذریعے ملت کی خدمت کی۔ لیکن موجودہ دور میں صحافت کے مقاصد و افکارتبدیل ہو گئے ہیں۔ انہوں نے اس تقریب کے انعقاد پر ڈاکٹر جاوید کمال کو دلی مبارکباد پیش کی۔ پروفیسر مصطفی علی سروری (مانو) نے کہا کہ مسلم کمیونٹی کے لیے اردو اخبارات بہت بڑی نعمت ہیں اردو اخبارات مسلم طبقے کے لیے غیر معمولی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ اردو والے ہی اردو اخبارات کے خریدار نہیں۔ اردو والوں کو چاہیے کہ وہ اردو زبان سے عملی طور پر اپنا رشتہ جوڑیں اور اردو کتابیں اور اخبارات خرید کر پڑھیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں شعبہ صحافت بھی قائم ہے جہاں ڈگری اور ڈپلومہ کورسس ہیں۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ یہاں آ کر تربیت حاصل کریں۔
چیف ایڈیٹر ہفت روزہ گواہ ڈاکٹر فاضل حسین پرویز نے سابقہ مشہور صحافیوں احمد جلیس مرحوم، ایم اے مجیب مرحوم ANS ، جناب عطا محمد، جناب محمد شفیق الرحمن، جناب کرار حیدر کی صحافتی خدمات اور ان کی یادوں کو تازہ کیا۔ انھون نے روزنامہ منصف کے بانی جناب محمود انصاری کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ وہ بہت ہی ملنسار با مروت، خوش اخلاق انسان تھے۔ وہ جب بھی کوئی ان سے ملتا تو وہ ایسا محسوس کرتا تھا کہ انصاری صاحب سے اس کے دیرینہ روابط ہیں۔ صحافتی دنیا میں آج بھی محمود انصاری صاحب کی کمی بہت محسوس کی جاتی ہے۔
جب سے جناب خان لطیف خان کی ادارت میں روزنامہ منصف کی اشاعت کا آغاز ہوا اردو صحافیوں کے وقار میں نہ صرف اضافہ ہوا بلکہ اردو صحافی احساس کمتری سے بھی آزاد ہوئے اس دور کو اردو صحافیوں کے لیے ایک انقلابی دور کا آغاز کہا جا سکتا ہے۔ انہوں نے تجویز رکھی کے منصف کے 50 سال مکمل ہونے کی مسرت میں روزنامہ منصف کی گولڈن جوبلی تقاریب منائی جانی چاہیے، اور صحافیوں کو “خان لطیف خان میموریل ایوارڈز” دیے جائیں۔
داعی محفل و مدیر ریختہ نامہ ڈاکٹر جاوید کمال نے کہا کہ ایماندارانہ صحافت اب بھی زندہ ہے انہوں نے کہا کہ اردو ادبی محفلوں کا انعقاد ایک چیلنج سے کم نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بہت کچھ کوششوں کے باوجود اردو والوں کی تعداد بہت ہی کم جمع ہوتی ہے۔ انہوں نے چیف ایڈیٹر روزنامہ منصف جناب محمد عبدالجلیل کی خصوصی دلچسپی اور رہبری پر انہیں خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ اردو کے پروگراموں کے لیےجناب محمد عبدالجلیل کی رہبری و رہنمائی قابل ستائش ہے۔ انھون نے کہا کہ اردو صحافت نے اپنے آپ عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کیا اور جدید ٹکنالوجی کے ساتھ اپنی ہم عصر زبانوں کے شانہ بشانہ ہے۔
سینیئر صحافی جناب کے این واصف نے کہا کہ2000ء کے بعد اردو صحافت کمزور ہونے لگی۔ انھون نے اس کا ذمہ دار اردو قائرین اور اہلِ اردو ٹھہرایا۔
سینیئر صحافی جناب اکبر علی خاں احسن نے کہا کہ صحافت ایک مقدس پیشہ ہے موجودہ حالات اور کافی دباؤ کے باوجود اردو صحافی اپنے خدمات انجام دے رہے ہیں جو لائق تحسین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں نے اردو اخبارات پڑھنا چھوڑ دیا ہے جو مناسب بات نہیں ہر اردو والے کو چاہیے کہ وہ اردو اخبار ضرور خریدے۔
صحافی و شاعر جناب سعد اللہ خان سبیل ایڈیٹر آرسی اردو ٹی وی نے کہا کہ سوشل میڈیا پر من گھڑت باتیں آتی ہیں جب تک کسی بات کی تصدیق نہ ہو اس طرح کی باتوں کو فارورڈ کرنے سے گریز کرنا چاہیے انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا بہت زیادہ مقبول ہونے کے باوجود پرنٹ میڈیا کی اہمیت و افادیت اب بھی باقی ہے۔

سینیئر صحافی اور ماہر تعلیم جناب محمد حسام الدین ریاض نے کہا کہ اردو کی محفلوں کے انعقاد سے متعلق ڈاکٹر جاوید کمال کی دلچسپی قابل ستائش ہے۔ مولانا صوفی مظفر علی ابوالعلائی نے کہا کہ ڈاکٹر جاوید کمال اختراعی صلاحیتوں کے حامل ہیں وہ وقفے وقفے سے اردو کے پروگرام کسی نہ کسی عنوان کے تحت منعقد کرتے ہیں۔ جناب ابو مسعود عبدالغنی سابق تحصیلدار نے کہا کہ اقتدار کے ایوانوں میں مظلوموں کی آواز صحافت کے ذریعے ہی پہنچتی ہے انہوں نے کہا کہ وقت کا تقاضا یہ ہے کہ خبر کو سچائی کے ساتھ پیش کیا جائے سنسنی پیدا کرنے سے عام بے چینی پیدا ہو جاتی ہے انہوں نے کہا کہ بریکنگ نیوز کے چکر میں من گھڑت اور غیر مصدقہ باتیں عوام میں پھیلتی جا رہی ہیں جس کا صحافت بالخصوص سوشل میڈیا سے عوام کا اعتبار اٹھ جانا یقینی ہو گیا ہے۔
اس موقع پر صحافیات راسیہ نعیم ہاشمی اور انجم کا محترمہ گل رانا نے تعارف پیش کیا۔ روبی چینل کے آصف علی کا پیام جناب واجد محی الدین نے سنایا۔ سینیئر صحافی محترمہ راسیہ نعیم ہاشمی نے صحافت سے متعلق انشائیہ پیش کیا۔ ڈاکٹر اسماء انجم نے بھی مخاطب کیا صدر بزم جوہر ڈاکٹر روبینہ شبنم نے کہا کہ پہلے صحافی خبروں کو ڈھونڈا کرتے تھے اور آج خبریں صحافیوں کو ڈھونڈ رہی ہیں انہوں نے کہا کہ اردو زبان کو زندہ جاوید رکھنے کے لیے ڈاکٹر جاوید کمال کی کوششیں قابل ستائش ہیں۔ معروف مزاحیہ شاعر جناب لطیف الدین لطیف نے شکریہ ادا کیا۔
اس موقع پر ڈاکٹر راسیہ نعیم ہاشمی اور ڈاکٹر اسماء انجم صاحبہ کے علاوہ جناب ایم اے ماجد، ڈاکٹر فاضل حسین پرویز، جناب کے این واصف، سعداللہ خان سبیل , ڈاکٹر مصطفی علی سروری، جناب محمد حسام الدین ریاض، صوفی سلطان شطاری، جناب سید ضیاالرحمٰن سی ای او نیوز پورٹل “یاہند ڈاٹ کم” کی شال پوشی کی گئی اور یادگاری مومنٹوز پیش کئے گئے۔ محفل میں جناب سید مجیب اللہ حسینی، جناب محمد ظہور الدین صدر نشین سکندرآباد کو آپریٹو بینک، جناب جبار فرید درانی سابق آڈیٹر اے جی آفس، جناب غوث ارسلان، جناب بصیر خالد، جناب عبدالحفیظ حکیم، جناب علی الدین، جناب منظور احمد، جناب سیف الدین، جناب آتش حیدرابادی، ڈاکٹر معین امر بمبو، محترمہ مجیب النساء ‘محترمہ زبیدہ بیگم، محترمہ واجدہ سلطانہ، ڈاکٹر فہمیدہ بیگم، محترمہ عصمت بیگم اردو پنڈت اور دیگر موجود تھے۔
