حیدرآباد ( راست)
کبھی سماجی خدمات انجام دینے والوں کی بہت ہی قدر و منزلت ہوا کرتی تھی لیکن آج بعض افراد نے سوشیل ورک کوبدنام کر دیا ہے سوشیل ورک کے نام پر عوام کو ہراساں کیا جا رہا ہے لوگ اپنے بیوی بچوں کا تک خیال نہیں کرتے لیکن سوشیل ورک کے نام پر معصوم عوام کو پریشان کرتے رہتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار صدر نشین شاہین گروپ آف اسنٹیٹوشن انہوں نےاقراء گروپ اف ڈاکٹرز حیدرآباد کی جانب سے اقراآڈیٹوریم ملک پیٹ میں جشن آزادی ہند اور قومی پرچم کشائی کی تقریب کے بعدمنعقد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جس میں منتخب ڈاکٹرز اور دیگر حضرات و خواتین کوبنام “چینج میکر” بیسٹ ڈاکٹرس “بیسٹ میڈیکوز”، “بیسٹ والینٹرس” کے علاوہ تحریری مقابلوں میں کامیاب امیدواروں کومومنٹوز پیش کیے گئے۔ ان کی شال پوشی کی گئی۔
ڈاکٹر عبدالقدیر نے سلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا کہ” نسل ہی اصل ہے” جن کی تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت بےحد ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کردار خدمت اور عمل کے ذریعہ سے ہی ہم سماج میں بہتر زندگی گزار سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیارومحبت پھیلانا اور نفرت کو ختم کرنا آزادی کا اہم مقصد و پیام ہونا چاہیے۔ ڈاکٹر قدیر نے کہا کہ ہم ہر علاقے میں محبت پھیلانے کا کام کریں ہر شخص کم از کم 10تا15 افراد کو آپسی محبت کے پیام سے واقف کرائیں۔ انہوں نے اس سلسلے میں مساجد کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ مساجد کو مراکز بنا کر برائیوں کے خاتمہ کی کوشش کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہر محلے کی مسجد کے اطراف رہنے والے یہ جائزہ لیں کے کون مستحق ہیں اور اس کی مدد کرتے ہوئے ہم مستحق لڑکے اور لڑکیوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کریں ایسا کرنے کے بجائے ہم بھیک مانگنے والوں کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں جو بالکل نامناسب ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ جتنی زکوۃ اور صدقات پر ہم رقم خرچ کرتے ہیں اس سے 50 گنا شادی بیاہ کے موقع پر خرچ کیا جاتا ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ نکاح بابرکت ہے جس میں کم سے کم خرچ ہولیکن ہم زیادہ سے زیادہ خرچ کر رہے ہیں اور ذرا بھی شرم محسوس نہیں کرتے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رات کو جلد سو جایا کرو اور صبح کی اولین ساعتوں میں رزق کی تلاش میں نکل جاؤ لیکن ہم اس حکم کے خلاف بھی کام کر رہے ہیں اور رات کو دیر تک سوتے ہیں اور دن کا آدھا حصہ سونے میں گزار دے رہے ہیں۔ انہوں نے ہر تعلیم یافتہ سے خواہش کی کہ وہ تعلیم کے شعور سے متعلق اپنے اپنے محلے میں شعور بیدار کرے اور تعلیم کی اہمیت سے واقف کرواتے ہوئے لڑکے اور لڑکیوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کریں۔ اگر انہیں کچھ مالی مشکل ہو تو اس کی ضرور مدد کریں انہوں نے کہا کہ اگر جو طلباء تعلیم ترک کر دیے ہیں ان کی نشاندہی کی جائے تو وہ شاہین گروپ آف انسٹیٹیوشنس کی جانب سے ایسے لڑکے اور لڑکیوں کی دسویں جماعت تک تعلیم کا مفت انتظام کرنے کے لیے تیار ہیں۔
ڈاکٹر محمد افتخار الدین سیکرٹری میسکو گروپ آف انسٹی ٹیوشنس نے کہا کہ آج کے دور میں خدمت کے جذبے کو مذہب سے الگ کر دیا گیا ہے جبکہ مذہب میں خدمت کی اہمیت کو بار بار واضح کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی خدمت کا جذبہ پیدا کریں انہوں نے یہ بھی کہا کہ مسلمانوں نے ہی دنیا بھر میں علم کو عام کیا مختلف فنون مسلمانوں کی ہی ایجاد ہیں لیکن آج افسوس اس بات کا ہے کہ مسلمان تعلیم کے معاملے میں دور ہوتے جا رہے ہیں۔ انہوں کہا کہ اللہ کا سلیبس (نصاب) قران ہے ہم دنیوی نصاب کی تکمیل کو توجہ دیتے ہیں۔ لیکن قرآن کو پڑھنا ضروری نہیں سمجھتے انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں ہزاروں اساتذہ کی تعداد درکار ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ موجودہ نسل دین سے دور ہوتی جا رہی ہے موجودہ نسل پر محنت کرنا اور ان کو سیرت طیبہ کے مختلف پہلوؤں سے واقف کروانا وقت کا اہم تقاضہ ہے۔
ڈاکٹر تنزیل منور نے کہا کہ اقراء گروپ آف ڈاکٹرز کی جانب سے مختلف فلاحی و عوامی خدمات انجام دیے جا رہے ہیں انہوں نے کہا کہ انسانیت کی خدمت ہمارا بنیادی مقصد ہے انہوں نےاقراء گروپ آف ڈاکٹرز کے تمام شعبوں کا تعارف کرایا اور کہا کہ ہم اولڈ ایج ہوم تک پہنچتے ہیں اور وہاں ضرورت مندوں کی مدد کی جاتی ہے اس کے علاوہ فری میڈیکل کیمپس بھی منعقد کیے جاتے ہیں۔ اقرا پنشن گروپ کے ذریعے ہر ماہ پانچ تاریخ سے پہلے مستحق افراد کو وظیفہ دیا جاتا ہے ایجوکیشن اینڈ گائیڈ سرویس بھی ہے جس سے طلبہ طالبات کو مسابقتی امتحانات کی رہنمائی کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ اقرا ورکشاپ اینڈ میڈیکل کلاسیس کے ذریعے میڈیکل کلاسیس چلائی جاتی ہیں تحریری مقابلوں کا انعقاد بھی عمل میں لایا جاتا ہے۔ انہوں نے آئندہ کےمنصوبوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ بلڈ بینک شروع کرنے کا منصوبہ ہے اس کے علاوہ اقراء ہیلت کارڈ’ اقرار ڈے کیر سنٹر اوراقراء اسٹڈی روم بھی قائم کیا جائے گا۔
ڈاکٹر جی سرینواس نے یوم آزادی کی مبادکباد دی اور اقراءگروپ آف ڈاکٹرز حیدرآباد کی کارکردگی کی ستائش کی۔ ڈاکٹرسیداکرم کوتوال میڈیکل ڈائریکٹر رینووا بی بی کینسر ہاسپٹل ملک پیٹ حیدرآباد نےکہا کہ رینووا بی بی کینسر ہاسپٹل میں بہت ہی کم قیمت پر کینسر سے متاثرہ مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمباکو کے مضر اثرات کے باوجود لوگ اس عادت سے باز نہیں آرہے ہیں سال بھر میں تمباکو استعمال کرنے کے لیے 10 ہزار روپے خرچ کرتے ہیں اور پیسے دے کر اپنی صحت کو برباد کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو اپنی بیماری بڑھاوا دینے کا شعورہے لیکن بیماری سے بچنے کا شعور نہیں ہے۔ جناب اعجاز عاصم، جناب شیخ مصطفی احمد، روی کمار، ڈاکٹر محمد معزنے بھی مخاطب کیا جناب امتیاز صدر الدین بھائیدانی بانی ریاض الجنہ ایجوکیشنل ریلیجیس ٹرسٹ نے بھی مخاطب کیا اور کہا کہ ٹرسٹ کے ذریعے انسانیت کی ہر ممکن خدمت کی جا رہی ہے۔ انہون نے کہا ہم خدمت کرتے کرتے مریں گے اور مرتے دم تک خدمت کریں گے۔
اس موقع مختلف ڈاکٹرس، انجینیئرس، پروفیسرس، اساتذہ، لیکچررس بشمول ڈاکٹر صالحہ شاہین، ڈاکٹر محمد عبید اللہ، جناب عبدالمجید نور، جناب محمد حسام الدین ریاض کوآرڈینیٹر مانو المنائی اسوسی ایشن بھی موجود تھے۔ مولانا مفتی ابوبکر قاسمی کی دعا پر تقریب کا اختتام عمل میں آیا۔
