کے این واصف
ووٹرزلسٹ کی شفافیت کے نام پر کی جارہی “خصوصی گہری نظرِ ثانی” SIR کے عمل میں ملک کے ہر شہر میں لاکھوں افراد کے نام ووٹرز لسٹ سے کٹ رہے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل خبر آئی تھی کہ کولکتہ میں انگریزی روزنامہ “ٹیلی گراف” کے سابق ایڈیٹر آر راج گوپال کا نام ووٹرلسٹ ھدف کردیاگیا۔ اب تازہ خبر کے مطابق بنگلورو (کرناٹک) میں معروف فلم اسٹار اور سماجی جہدکار پرکاش راج کا نام بھی ووٹرلسٹ سے کٹ گیاہے۔
خیر یہ تو ہوئے بڑے لوگ جن کی آواز ہے، رسوخ ہیں۔ یہ اپنے معاملات کسی نمٹالیں گے۔ مگر ملک کے ان کروڑون لوگوں کا کیا ہوگا جن کی آواز اور رسوخ تو کجا ان کے پاس بطورِ ثبوت کوئی کاغذ تک نہیں۔
واضح رہے کہ مغربی بنگال کے اسمبلی انتخابات کے وقت 27 لاکھ ووٹرز کے نام ووٹر لسٹ سے ھدف ہونے کے اس گمبھیر مسئلہ کو عدالت نے یہ کہہ کر ٹال دیا گیا تھا اس وقت تو کچھ نہیں کیا جاسکتا یہ لوگ آئندہ الیکشن میں اپنے ووٹ کا استعمال کریں۔
اب شائد دیگر ریاستوں کے غریب، بے یار و مددگار افراد کے مسئلہ کو الیکشن کمیشن بھی ہلکے میں لیتے ہوئے یہ کہہ کر ٹال دے گاؔ
“اب تیرا کیا ہوگا کالیا”
