کے این واصف
ہفتہ رفتہ میڈیا میں اترپردیش کے خانگی اسکول کی پرنسپل کو ایک طالب علم کی ماں کے ساتھ شدید بدتمیزی کرتے ہوئے اور بچون کو اسکول سے نکالنے کا حکم صادر کرتے دکھایا گیا۔ ماں کا قصور یہ تھا اس نے کتابین اسکول کی بجائے باہر سے خریدی تھین۔
یہ خبر پڑھ کر کچھ عرصہ قبل سوشیل میڈیا ہی پر دیکھا ایک ویڈیو یاد آیا۔ طنز و مزاح پر مبنی یہ ویڈیو میں ایک شخص کسی اسکول میں داخلے کی معلومات حاصل کرنے جاتاہے۔ پرنسپل اسکول فیس، ڈونیشن وغیرہ بتانے کے بعد کہتا ہے کہ اسکول یونیفارم، جوتے، موزے، کتابین، اسٹیشنری، بستہ وغیرہ اسکول سے خریدنا ہوگا۔ بچون کو آنے جانے اسکول ٹرانسپورٹ استعمال کرنا لازمی ہوگا نیز بچون کو لنچ اسکول مہیا کرے گا جس کا Payment بھی آپ کو کرنا ہوگا۔
اس پر سرپرست کہتا ہے یعنی Payment کے عوض ہر چیز اسکول دے گا۔ جس پر پرنسپل نے کہتا ہے ہاں۔ ۔
اس پر وہ شخص سوال کرتا ہے کیا بچے بھی آپ سے خریدنے ہونگے یا ہم اپنے بچے لا سکتے ہیں۔ 😜
