ریاض ۔ کے این واصف
سعودی عرب میں مقامی آبادی کے تقریباً برابر برسرے کار غیر ملکی آباد ہیں۔ اور ان غیر ملکیون کا تعلق دنیا کے بیسیوں ممالک سے ہے۔ اور ان غیر ملکیون کی اکثریت یہان مجّرد زندگی بسر کرتی ہے۔ جن کے اہل خانہ کو ان کی فکر لگی رہتی ہے۔ مملکت میں جب کبھی صورتحال تشویش ناک ہو یا عام حالات بگڑتے ہیں تو سعودی عرب میں مقیم تارکین وطن کے واپس وطن میں مقیم لواحقین مین بےچینی پیدا ہوجاتی ہے۔ جو ایک فطری بات ہے۔

اسی صورتحال کے پیش نظر نمائندہ روزنامہ سیاست نے مقدس شہرون مکہ اور مدینہ منورہ سمیت مملکت کے مختلف شہرون میں ہندوستانی باشندون سے گفتگو کی۔ تاکہ واپس وطن ہیں عوام کا اعتماد بحال رہے۔ اس سروے میں یہ جاننے کی کوشش کی کہ امریکہ، اسرائیل کی جانب سے ایران پر مسلط کی گئی جنگ اور ایران کے پلٹ وار و انتقامی کاروائیون کی وجہ سے خلیجی ممالک میں عموماً اور سعودی عرب میں خصوصاً کیا عام زندگی متاثر ہوئی ؟ ۔ نمائندے نے بہت سارے ہندوستانیون اور خصوصاً حیدرآدیون سے گفتگو کی۔ جس سے پتہ چلا کہ یہان عام زندگی حسب معمول ہے۔ لوگون کی روز مرہ کےمعمولات حسب سابق برقرار ہیں۔ تعلیمی ادارے، دفاتر، فیکٹریز حسب معمول کام کر رہے ہیں اور شاپنگ مالز اور بازاروں کی رونقیں قائم ہیں۔ ہر سال کی طرح رمضان کی گھماگھمی اور رونقوں میں کوئی فرق نہین آیا۔
یہان اس بات کا تذکرہ بے جاہ نہ ہوگا کہ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے چلتے ان دس دنون میں سعودی عرب کے راس تنورہ آئیل ریفائنری، امریکن ایمبیسی ریاض، الخرج ایر بیس اور الخرج کی ایک فیکٹری پر حملے ہوئے جس میں معمولی نقصان ہوا۔ مگر سعودی عرب عام زندگی حسب معمول رواں دواں ہے۔
پروازوں کی جزوی منسوخی کے باوجود حرمین شریفین ہر رمضان کی طرح اپنی تنگ دامانی کا شکوہ کررہے ہیں۔
عام طور پر یہان سے تارکین وطن کی اکثریت عید الفطر منانے چھٹی پر وطن جاتے ہیں۔ سعودی سے محدود تعداد میں ایر لائینز اپنی پروازین آپریٹ کررہی ہین۔ جن کے دام آسمان سے بات کررہے ہیں۔ جس سے عوام میں شکایت ہے کہ وہ ہے امسال وہ عید منانے گھر نہین جا پائین گے۔ سوائے ان لوگون کے جو محدود پروازوں میں بھاری قیمت ادا کرکے ٹکٹ خرید سکتے ہیں۔
