ریاض – محمد سیف الدین
نماز اور حج کی طرح ذکوۃ بھی اجتماعی عمل ہے تاکہ اجتماعی طور پر ضرورت مندوں کی اس طرح سے مدد کی جائے کہ وہ اگلے سال ذکوۃ لینے والے سے ذکوۃ دینے والے بن جائیں۔ بزم اردو ٹوسٹ ماسٹرز کلب ریاض کے سالانہ سحور پروگرام کے تحت "ذکوۃ کے احکام ومسائل” کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے ممتاز اسکالر عبدالمعید نوید نے یہ بات کہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ خلفائے راشدین کے دور میں بیت المال کے ذریعہ منظم و اجتماعی ادائیگی کے باعث مسلمانوں کے حالات اتنے بہتر ہوگئے تھے کہ ڈھونڈنے سے بھی ذکوۃ لینے والے مشکل سے ملتے تھے۔ آج کے دور میں بیت المال تو نہیں ہے لیکن ذکوۃ حاصل کرنے والے اداروں اور تنظیموں کو اس جانب پہل کرنی چاہئے۔ ذکوۃ کے مستحقین کے بارے میں انہوں نے کہا کہ سورہ توبہ کی آیت 60 میں اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر 8 قسم کے لوگوں کو ذکوۃ کا مستحق قرار دیا ہے ۔ ان میں فقراء، مساکین، عاملین، مولفۃ القلوب، الرقاب، غارمین، فی سبیل اللّٰہ اور ابن السبیل شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ رشتہ داروں اور پڑوسیوں کو ذکوۃ دینے سے قبل اس بات کو یقینی بنانا چاہئے کہ وہ مذکورہ بالا زمروں میں سے کسی ایک زمرے میں شامل ہوں۔ اس طرح ذکوۃ کی ادائیگی کے ساتھہ صلہ رحمی کا اجر بھی حاصل ہوگا۔
عبدالمعید نوید نے واضح کیا کہ مریض کے ہسپتال کا بل، غریب کی شادی، بچوں کی دنیاوی تعلیم کے اخراجات اور راشن یا کپڑوں کی شکل میں بھی ذکوۃ ادا نہیں کی جاسکتی، زکوۃ صرف پیسے کی شکل میں دی جانی چاہئے۔ اسلام میں ذکوۃ کے مقاصد یہ ہیں کہ مال سماج میں گردش کرسکے، حب مال کا خاتمہ ہو اور اللہ کی محبت غالب آئے۔
مہمان اعزازی ڈاکٹر ادریس سلیم خان نے اہم ترین موضوع پر معلومی پروگرام کے انعقاد پر منتظمین اور کلیدی مقرر کی ستائش کی ۔
صدر بزم اردو ٹوسٹ ماسٹرز کلب ریاض عبدالقدوس جاوید نے خیرمقدم کیا اور ٹوسٹ ماسٹرس کلب کا تعزرف پیش کیا۔ صدر ہندوستانی بزم اردو محمد سیف الدین نے بزم کا تعارف اور بزم کے تحت اردو ٹوسٹ ماسٹرس کلب کے قیام کے مقاصد بیان کئے۔ ڈی ٹی ایم محمد مبین نے کلیدی مقرر عبدالمعید نوید کا تعارف پیش کیا۔ڈی ٹی ایم سید ناصر خورشید نے نظامت کے فرائض انجام دئیے۔ سید عبدالحامد نے کلمات تشکر پیش کئے جبکہ محمد نمیر الدین کی قراءت کلام پاک سے پروگرام کا آغاز ہوا۔ممتاز شاعر افتخار راغب نے نعت شریف پیش کی ۔ سحور کے ساتھہ اس معلوماتی سیشن کا اختتام عمل میں آیا۔
