کے این واصف
سعودی عرب میں حوثی حملوں کی وجہ سے عارضی طور پر غیر اطمینان بخش حالات کے باوجود یہ ایک خوش آئند بات ہے کہ سعودی عرب کی پر امن شبیہ پر دینا کا بھروسہ اب بھی مضبوط ہے۔ جس کی تازہ مثال سعودی عرب میں گزشتہ برس براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری میں 33.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ سرمایہ کاری کا حجم تقریبا 159 ارب ریال تک پہنچ گیا۔
سعودی پریس ایجنسی “ایس پی اے” کے مطابق براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے سعودی معیشت کی بڑھتی ہوئی کشش اور وژن 2030 کے اہداف کی جانب اس کی مسلسل پیش رفت کی عکاس ہے۔
سرمایہ کاری میں اضافے کے ساتھ مملکت میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کا مجموعی حجم بھی 8.2 فیصد سے بڑھ کر سال 2025 کے اختتام تک 1059 ارب ریال ہو گیا۔
اس کی اہمیت کا اندازہ سال 2017 کے اعداد وشمار سے لگایا جاسکتا ہے۔ اس عرصے میں بیرونی براہ راست سرمایہ کاری کی سالانہ آمد 5 گنا بڑھ چکی ہے جبکہ سرمایہ کاری کا مجموعی حجم بھی دگنا ہو گیا ہے۔
