حیدرآباد – (راست)
مولانا حافظ وقاری ڈاکٹر محمد رضوان قریشی خطیب مکہ مسجد نے کہا کہ قرآن حکیم قیامت تک ساری دنیا میں پڑھی جانے والی عظیم الشان اور مقدس کتاب ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ امت مسلمہ اس کی ہر روز تلاوت کرے قرآن مجید کے معنی و مطلب کو سمجھیں اور اپنی زندگی کو اللہ اور رسول کے احکام کے مطابق گزاریں۔ مولانا قریشی نے ان خیالات کا اظہار مسجد چوک کی جانب سے دو روزہ جشن میلاد کے سلسلے میں نعتیہ مشاعرے کے موقع کیا۔
صدر انتظامی کمیٹی جناب منور حسین صدر بزم حسین نے جلسہ کی نگرانی کی۔ بعد ازاں غیر طرحی محفل نعتیہ مشاعرہ منعقد ہوا۔ محفل کاآغاز نو عمر قاریہ ماریہ رضوان قریشی کی قراءت سے ہوا۔ نظامت کے فرائض ممتاز و معروف سنجیدہ ‘مزاحیہ و نعتیہ شاعر جناب لطیف الدین لطیف نے کی۔ اس موقع پر بہترین انتظامات کرنے پر جناب محمد علی عرف چاند بھائی مالک دیوان ہوٹل کی جناب منور حسین نے شال پوشی کی اور مسجد چوک سے متعلق ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے پراثر خراج تحسین پیش کیا۔ 11 ستمبر کو بعد نماز جمعہ زیارت آثار مبارک کا اہتمام بھی کیا گیا جس کی نگرانی صدر انتظامی کمیٹی جناب منور حسین نے کی۔
مولانا ڈاکٹر محمد رضوان قریشی نے سلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا کہ حضور کی شان میں محفلیں سجانا’ آپ کا ذکر کرنا اور سیرت کا تذکرہ کرنا یہ صحابہ کی سنت ہے اور خود حضور کا پسندیدہ عمل بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کی خوشی منانا باعث برکت ہے لیکن اس سلسلے میں ادب و احترام کو ہر حال میں برقرار رکھنا لازمی ہے۔ ادب و احترام کے بغیر محفل میلاد منانا مناسب نہیں۔ ایسے مواقع پر ہمیں خرافات سے سختی سے پرہیز کرنا چاہیے۔ محفل میلاد کے وقت کسی بھی قسم کے شور و غل کی کوئی اجازت ہی نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ آج ساری دنیا میں مسلمانوں کو پست کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ مسلمانوں کو ان کے حقوق سے محروم کیا جارہا ہے۔ ایسے حالات میں ملت کا آپسی اتحاد ضروری ہے۔ اگر اب بھی ہم میں اتفاق نہ ہوا تو پھر باطل طاقتوں کو ہمارے خلاف سازشیں رچنے میں مزید کامیابی حاصل ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبین ہیں آپ کے بعد قیامت تک کوئی نبی نہیں آنے والا، اگر کوئی نبوت کا دعوی کرتا ہے تو وہ جھوٹاہے۔ مولانا رضوان قریشی نے مزید کہا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالی نے صرف مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ ساری انسانیت کے لیے رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قرآن کریم میں جتنی آیتیں ہیں ان سب میں سب سے عظیم الشان آیت وما ارسلنک الا رحمت اللعالمین ہے اس سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رفعت اور شان و مرتبہ ظاہر ہوتا ہے۔ جو لوگ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبین نہیں مانتے وہ قرآن کریم کی ہدایت سے غافل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حضرت عیسی علیہ السلام نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے 700 سال قبل ہی اپنی امت کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا میں تشریف لانے کی خوشخبری دی تھی اور یہ تک بتا دیا تھا کہ آنے والے آخری پیغمبر کا نام احمد ہوگا۔

اس موقع پر مختلف اصحاب کی جانب سےجناب منور حسین کی شال پوشی کی گئی اس موقع پر رکن نمائش سوسائٹی جناب تقی الدین شجیع کے علاوہ جناب سید ظہور الدین چیئرمین سکندرآباد کوآپریٹو بینک، جناب محمد حسام الدین ریاض، جناب سید عبدالمجید، جناب محمد راشد انور، جناب محمد سکندر، جناب نجم الدین، جناب ستار خان علیم، جناب محمد رفیع ڈھاکلی، جناب محمد مجاہد علی، جناب اعظم خان، جناب لیاقت علی خان، جناب محمد عارف اور دوسروں نے شرکت کی۔ ممتاز شاعر و مخدوم ایوارڈ یافتہ ڈاکٹر فاروق شکیل کی نگرانی میں نعتیہ مشاعرہ منعقد ہوا۔ نگران مشاعرہ کے علاوہ جناب سردار سلیم، جناب شاہدعدیلی، جناب سمیع اللہ حسینی سمیع، قاضی فاروق عارفی، جناب طاہر گلشن آبادی، جناب اکبر خان اکبر، ڈاکٹر طیب پاشاہ قادری، جناب فرید سحر، جناب ظفر فاروقی، پروفیسر محمد مسعود احمد، جناب علی جواد شہپر، جناب لطیف الدین لطیف؟ جناب امین الدین انصاری، جناب سہیل عظیم اور جناب جہانگیر قیاس نے نذرانہ عقیدت پیش کیا۔ جناب منور قادری اور دوسروں نے سلام پڑھنے کی سعادت حاصل کی۔ جناب لطیف الدین لطیف کے شکریہ پر نعتیہ محفل کا اختتام عمل میں آیا۔
