حیدرآباد – (پریس نوٹ)
قاضی زین العابدین ریٹائرڈ جوائنٹ کمشنر شوگر کین ڈپارٹمنٹ آندھرا پردیش (متحدہ) نے کہا کہ اردو زبان کو زندہ و تابندہ رکھنے کے لیے ادبی محفلیں اور مشاعرے بہت ہی مفید ہیں۔ آج کے اس گہما گہمی اور ہنگامی مصروفیات کے دوران وقت نکال کر اردو کی محفلیں سجانا اور ان میں شرکت کرنا بہت ہی اہم بات ہے۔ قابل تحسین ہیں وہ لوگ جو اردو زبان و ادب کے لیے انفرادی سطح پر ہر ممکن خدمات انجام دے رہے ہیں، اور اب ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ ان اردو محفلوں سے نوجوان نسل کو جوڑا جائے اور ان میں اردو زبان سے زیادہ سے زیادہ محبت پیدا کی جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایوان احمد ملک پیٹ حیدرآباد میں پروفیسر محمد مسعود احمد کی جانب سے اہتمام کردہ ہفتہ واری “محفل عصرانہ” سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں مزید نے کہا کہ موبائل فون کے بڑھتے ہوئے اس دور میں جو لوگ اردو کے نام پر جمع ہو رہے ہیں وہ قابل تحسین ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں پروفیسر مسعود احمد کی کوششوں و کاوشوں کو خراج تحسین پیش کیا۔ جناب تقی الدین شجیع رکن نمائش سوسائٹی نے کہا کہ اردو زبان سے متعلق ہمیں مایوسی کی کوئی ضرورت نہیں ہے اردو زبان بہت زیادہ پھلتی پھولتی جا رہی ہے یہ صرف کسی ایک خطہ یا ملک کی حد تک محدود نہیں بلکہ عالمی طور پر اسے مقبولیت حاصل ہے اور مغربی ممالک میں بھی اس زبان کے جاننے والے، بولنے والے ‘لکھنے اور پڑھنے والے کافی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ انہوں نے اردو زبان کے فروغ کے سلسلے میں شعرا برادری کی کاوشوں کی بیحد ستائش کی اور کہا کہ پروفیسر مسعود احمد محفل عصرانہ کے ذریعے ہر منگل کو ایوان احمد میں ایک تقریب منعقد کرتے ہوئے اردو کو آگے بڑھانے میں اہم رول انجام دے رہے ہیں۔ اس محفل کی کاروائی سنجیدہ و مزاحیہ ممتاز و معروف شاعر جناب لطیف الدین لطیف نے چلائی اور اپنے مزاحیہ کلام سے محفل کو خوب محظوظ کیا۔ داعی محفل پروفیسر محمد مسعود احمد نے کہا کہ محفل عصرانہ کےانعقاد کا مقصد شعرا برادری کو ہر ہفتہ اپنے کلام پیش کرنے کا موقع دینا اور اردو والوں کو ایک پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے۔ ہر مہینے کے آخری منگل کو ایک محفل خواتین کے لیے بھی مختص کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اردو زبان ادب کے فروغ کے لیے جتنی بھی کوششیں ان سے ہو سکتی ہیں وہ ضرور کرنے کے لیے تیار ہیں، اور عملی طور پر کر بھی رہے ہیں۔ جناب محمد منور حسین بانی بزم حسین نے کہا کہ ایوان احمد کی سرگرمیوں کو مزید وسعت دیتے ہوئے علاقے ہاشم آباد میں بھی ایوان احمد کا ایک اورمرکز قائم کیا جا رہا ہے۔ بہت جلد ہاشم آباد علاقے میں بھی ہر ماہ شاعروں’ ادیبوں’ مفکرین ‘دانشوروں اور دیگر معززین کے ساتھ نشستوں کا اہتمام کیا جائے گا۔
ممتاز و معروف سنجیدہ اور مزاحیہ شاعر جناب نجیب احمد نجیب نے پروفیسر مسعود احمد کے فن اور شخصیت پر ڈاکٹر عمر بن حسن نامور نقادکا لکھا ہوا ایک مضمون سنایا جسے بیحد پسند کیا گیا۔ جناب جہانگیر قیاس نے تیراکی کے مقابلے میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے پر پروفیسر مسعود احمد کو مبارکباد دی۔ ممتاز مزاحیہ سنجیدہ شاعرجناب فرید سحر نے محفل عصرانہ کی باقاعدگی سے اہتمام پر کہا کہ یہ محفل کا رنگ اور پیمانہ بالکل مختلف و جدا گانہ اور انفرادی اہمیت کا حامل ہے۔ کمسن محمد ابوبکر خان متعلم ساتویں جماعت مدینہ ہائی اسکول حمایت نگر نے اپنی مختصر سی تقریر میں کہا کہ وہ بڑے ہو کر حیوانات کے علاج کے ڈاکٹر بننا چاہتے ہیں۔ پروفیسر مسعود نے ان کی اس خواہش پر استفسار کیا کہ آخر وہ امراض حیوانات کے ڈاکٹر کیوں بننا چاہتے ہیں تو محمد ابوبکر خان نے جواب دیا کہ انسانی علاج کے دواخانے تو بے شمار ہوتے ہیں لیکن بے زبان جانوروں کی خدمت کرنا بھی بہت بڑا اجر ہے۔ انہوں نے کہا کہ جانوروں پرندوں سے ہمارا تعلق ہونا بیحد ضروری ہے۔ مخدوم ایوارڈ یافتہ ممتاز و معروف شاعر ڈاکٹر فاروق شکیل کی صدارت میں مشاعرہ منعقد ہوا۔ محفل کا آغاز جناب جنید حسینی جنید کی نعت سے ہوا۔ صدر مشاعرہ کے علاوہ پروفیسر محمد مسعود احمد، فرید سحر، لطیف الدین لطیف، نجیب احمد نجیب، جہانگیر قیاس، سہیل عظیم، ثنا اللہ انصاری وصفی، سلیمان صدیقی اعتبار، افتخارحسین، حفیظ راحیل نے کلام سنایا۔ جناب محمد حسام الدین ریاض نے شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر جناب سید ظہور الدین چیئرمین سکندرآباد کوآپریٹو بینک، جناب سید افتخارالین فہیم، ڈاکٹر محمد ناظم علی، سید مجتبی عابد اور دوسروں نے شرکت کی۔
