کے این واصف
پچھلے ہفتہ ایک شرمناک خبر سامنے آئی کہ سردار پٹیل نیشنل پولیس اکیڈمی حیدرآباد میں زیر تربیت ایک IPS آفیسر نے اپنے ہی بیاچ کی ایک خاتون آفیسر کو جنسی طور پر حراسانی کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ غور طلب بات یہ ہے اکیڈمی کے یہ IPS آفیسر جو چند ماہ بعد عملی میدان میں اترینگے جن کا کام قانون کی حفاظت اور مجرمون کو پکڑنا ہوگا، خود اس قسم کے جرم میں ملوث پائے جارہے ہیں۔
اس طرح کی شکست خوردہ ذہنیت کے حامل پولیس افسران کے مستقبل ہیں عملی میدان آنے کا خدشے ہی نہیں ہے بلکہ ہمارے پولیس عملے میں پہلے سے ایسے عہدیدار موجود ہیں جنہیں ہم ان دنوں دہلی کے جنتر منتر میدان پر دیکھ رہے ہیں۔ جو اپنی گندی ذہنیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے طالبات کو جسمانی طور پر حراساں کررہے ہیں، ُ ان کے کپڑے پھاڑ رہے ہیں نیز ذہنی گندگی کی حدیں پار کرتے ہوئے ایک پولیس افسر نے تو انتہائی بیہودہ حرکت کرتے ہوئے ایک طالبہ کے پیچھے حصہ میں اپنی لاٹھی گھساتے ہوئے کیمرے میں ریکارڈ ہوا گیا۔
تو یہ ہیں ہمارے پولیس عہدیدار جن سے ہم قیامِ امن، قانون کی حفاظت اور انصاف کی امید کرتے ہیں۔ سدرشن فاکر نے سچ کہا ہے
میرا قاتل ہی میرا منصف ہے
کیا مرے حق میں فیصلہ دے گا
