ہندوستان کبھی ملک کی آبادی پر کنٹرول کی پرزور مہم چلاتا تھا۔ لیکن اب چین اور جاپان کی طرح ہندوستان میں بھی شرح پیدائش میں کمی کا نوٹ لیا جارہا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ملک کے شمال میں وہ بھگوا قائدین جنہون نے خود شادی نہین کی وہ سناتنیون کو زیادہ بچے پیدا کرنے کی صلاح دے رہے ہیں۔ جبکہ آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ چندرا بابو نائیڈو نےاپنی عوام کو دہرا مزہ لوٹنے کا موقع دیتے ہوئے ریاست میں ہر بچے کی پیدائش پر حکومت کی جانب سے 25 ہزار روپئے دئیے جانے کا اعلان کیاہے۔ مگر ان اعلانات پر عوام کان دھرتے نظر نہین آرہے ہیں۔ ادھر روزنامہ سیاست میں شائع ایک تازہ خبر کے مطابق ریاست تلنگانہ میں گھٹتی شرح پیدائش کو ایک نئے سماجی و معاشی بحران کا پیش خیمہ بتایا گیا ہے۔
متذکرہ تمام خبرون سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کم بچے پیدا کرنا کسی ایک طبقہ کا نہین بلکہ یہ رجحان ملک میں اب عام ہے۔
لہٰذا یہ رجحان ہمارے وزیرآعظم کے اࣿس انتخابی ریلی کے بیان کی نفی کرتا ہے جس میں انھون نے کہا تھا کہ “کانگریس اگر اقتدار میں آئی تو آپ کا آدھا مال چھین کر اࣿن کو دے دین گے جن کے زیادہ بچے ہیں”۔
