کے این واصف
مذہبی پہچان کی بنیاد پر تعصب، غنڈہ گردی، بدسلوکی، مارپیٹ، لنچنگ، بھڑکاؤ بیان، سماجی میں تناؤ پیدا کرنے والے بیانات جیسی حرکات اب سڑک چھاپ غنڈون اور جُہلا ہی کا وتیرہ نہین رہا۔ اب مذہبی پہچان کی بنیاد پر توہین آمیز سلوک علانیہ و کھلّم کھلّا طور پر تعلیمی ادروں میں بھی ہونے لگاہے۔
فرقہ پرستی کی ایک بدترین مثال پیش کرتا ہوا ایک تازہ واقع بنگلورو کی PES University میں پیش آیا۔
بنگلورو میں واقع PES University میں ایک مسلم طالب علم کے ساتھ مبینہ طور پر توہین آمیز اور امتیازی سلوک کا معاملہ سامنے آیا ہے، جس نے تعلیمی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
تفصیلات کے مطابق 24 مارچ کو کلاس کے دوران پروفیسر ڈاکٹر مرلی دھر دیس پانڈے نے ایک مسلم طالب علم عفان کو بار بار “دہشت گرد” کہہ کر مخاطب کیا اور ان کے خلاف سخت اور توہین آمیز زبان استعمال کی۔ الزام ہے کہ اس پروفیسر نے تقریباً 60 طلبہ کے سامنے عفان کو کم از کم 13 مرتبہ “دہشت گرد” کہا، جس سے کلاس روم کا ماحول انتہائی کشیدہ اور غیر اطمینان بخش ہوگیا۔
پروفیسر پر مزید الزام ہے کہ اس نے متنازعہ ریمارکس کرتے ہوئے کہا کہ “ایران کی جنگ تم جیسے لوگوں کی وجہ سے ہوئی”، “ٹرمپ تمہیں اٹھا لے جائے گا” اور “تم احمق ہو، جہنم میں جاؤ گے”۔ یہ ریمارکس مبینہ طور پر پورے کلاس روم کے سامنے کئے گئے۔
لگتا ہے اس بدبختنہ وقعہ کی پردہ پوشی کرنے کی کوشش خود یونیورسٹی انتظامیہ کررہا ہے۔ کیونکہ میڈیا میں وائرل ہوئی خبر کے مطابق واقعہ کے بعد سی سی ٹی وی فوٹیج کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، اطلاعات کے مطابق وہ ویڈیو جو بطور ثبوت کام آ سکتی تھی، مبینہ طور پر حذف کر دی گئی۔
وائرل خبرکے مطابق اس دوران کچھ طلبہ نے عفان کی حمایت میں آواز اٹھانے کی کوشش کی، تاہم الزام ہے کہ انہیں بعد ازاں معطل کر دیا گیا، جس کی وجہ “کلاس کے دوران بات چیت کرنا اور کلاس کو ڈسٹرب کرنا” بتائی گئی۔
خبروں کے مطابق مذکورہ پروفیسر نے کالج انتظامیہ کو اپنا معذرت نامہ پیش کیا، تاہم انہوں نے مبینہ طور پر براہ راست متاثرہ طالب علم عفان سے معذرت نہین کی اس کے بجائے شعبہ کے سربراہ نے ان کی طرف سے معذرت کی۔ ساتھ ہی یہ بھی الزام سامنے آیا ہے کہ طالب علم پر بالواسطہ دباؤ ڈالا گیا اور اسے اپنے کیریئر کے بارے میں سوچنے کا مشورہ دیتے ہوئے معاملہ ختم کرنے پر زور دیا گیا۔
اطلاعات کے مطابق عفان کا خاندان پہلے ہی مالی مشکلات کا شکار ہے۔ ممکن ہے یہ پریشان حال طالب علم اس بلواسطہ دباؤ کے آگے ہتھیار ڈال دے۔
منصوبہ بند فسادات، فرقہ وارانہ دنگے، دوران سفر ٹرین میں مذہبی پہچان کی بنیاد پر توہین آمیز سلوک، مارپیٹ، قتل اور لنچنگ وغیرہ جیسے بدبختانہ واقعات کا وقوع پذیر ہونا ملک کے طول و عرض اب عام ہوگیا ہے۔ جس میں سارے جࣿہلا اور غنڈہ عناصر ملوث ہوتے ہیں۔ مگر اب فرقہ واریت کا زہر اس قدر پھیل گیا ہے کہ اب مقدس پیشہ سے وابستہ پڑھے لکھے اسکول ٹیچرز اور یونیورسٹی پروفیسرز بھی اس طرح کی شرمناک واقعات مین ملوث ہوکر تعلیمی اداروں کے تقدوس کو پامال کررہے ہیں۔
اب بات کرین گے بنگلورو یونیورسٹی کے پروفیسر کے جملہ پر کہ “ایران کی جنگ تم جیسے لوگوں کی وجہ سے ہوئی۔
اس پڑھے لکھے جاہل پروفیسر کو یہ تک علم نہین کہ یہ جنگ کیسے اور کس نے شروع کی۔ یہ بات اظہر من الشمس ہے دنیا کے سب سے بڑے دہشت گرد اسرائیل نے ایران پر یہ جنگ تھوپی۔ اس جاہل پروفیسر سے کوئی پوچھے کہ کیا نیتن یاہو مسلمان ہے۔ اس سے یہ بھی پوچھا جائے کہ ملک میں فرقہ وارانہ فسادات برپا کرنے والے، کھلے عام ہتھیار تقسیم کرنے والے، مساجد پر حملے کرنے والے اور بے بنیاد الزام لگاکر لنچنگ کرنے والے کیا سب مسلمان ہیں۔ کیا ایران کے ایک اسکول پر بم برساکر 140 سے زائد معصوم بچون کو شہید کرنے والا ظالم نتن یاہو مسلمان ہے۔ ہزارون نہتّے فلسطینیون کا قاتل نتن یاہو مسلمان ہے۔ “ایران کی جنگ تم جیسے لوگوں کی وجہ سے ہوئی” کہنے والے جاہل پروفیسر سے کوئی یہ پوچھے کہ ذہنی مریض نتن یاہو نے یہ جنگ چھیڑکر دنیا کو معاشی بحران میں مبتلا کردیا کیا وہ مسلمان ہے۔ تھوڑا سا پیچھے جاکر جاہل پروفیسر سے ایک اور سوال کہ صرف شبہ کی بنیاد پر کہ عراق کے پاس نیوکلیر ہتھیار ہیں عراق کو کھنڈر میں تبدیل کرنے والا جارج بش مسلمان ہے۔ جب جی میں آئے کسی ملک کی قیادت تبدیل کرنے اس ملک پر حملے کرنے والا ڈونالڈ ٹرمپ مسلمان ہے۔ اگر بنگلورو کی یونیورسٹی کا پروفیسر مرلی دھر دیش پانڈے ان سوالات کے جواب نہین دے سکتا تو اسے فوری گرفتار کرکے سخت سزا دی جائے تاکہ آئندہ کوئی پروفیسر اس قسم کے غیر ذمہ دارانہ ریمارکس کے ذریعہ تعلیمی اداروں کے ماحول خراب کریں نہ تعلیمی اداروں کے تقدوس کو پامال کریں۔
