کے این واصف
مملکت سعودی عرب میں آئندہ سال اگست کی دو تاریخ کو اکیسویں صدی کا طویل ترین سورج گرہن ہوگا جسے مملکت کے اکثر حصوں میں دیکھا جا سکے گا۔
گزشتہ 75 برس میں سعودی عرب میں پہلی بار ایسا ہوگا کہ ایک وضع فلکی، جو مملکت میں کبھی کبھی دکھائی دیتی ہے، لوگوں کے سامنے ہوگی اور دن کی روشنی، تاریکی میں بدل جائے گی۔
سعودی اسپیس ایجنسی کے مطابق دو اگست 2027 کے سورج گرہن کو مملکت کے مغربی اور جنوبی حصوں میں دیکھا جا سکے گا۔ اس فلکی منظر کے مشاہدے کے لیے سعودی عرب دنیا بھر میں بہترین اور سٹریٹیجک مقام ثابت ہوگا تاہم اِس کسُوف (سورج گہن) کا دورانیہ مملکت کے ہمسایہ ملک مصر میں زیادہ طویل ہوگا۔
اس میں گہن میں مملکت کے جنوبی حصے جن میں ابھا بھی شامل ہے، چھ منٹ کے لیے تاریکی میں ڈوب جائیں گے۔ جدہ اور مغربی ساحلی علاقوں میں، قُرصِ خورشید کے سیاہ ہونے کا دورانیہ پانچ منٹ اور 50 سیکنڈ ہوگا۔ اِس وضع فلکی سے محققین اور آسمانی اجرام کا مشاہدہ کرنے کے شوقین افراد کو آفتاب کی بیرونی سطح یا شمسی کورونا کو سٹڈی کرنے کا نایاب موقع ملے گا۔
اسپیس ایجنسی نے مملکت میں شہریوں سے کہا ہے کہ وہ سورج گرہن کے وقت حفاظتی تدابیر کو ملحوظ رکھیں اور خصوصی چشمے یا فلٹر والی دُوربین کے بغیر آفتاب کو براہِ راست دیکھنے سے گریز کریں۔
