کے این واصف
لاکھون کی تعداد میں فرزندان توحید مقدس سرزمین مکہ پہنچ چکے۔ اس دوران سعودی محکمہ موسمیات کی پیشگوئی کے قومی مرکز نے خبردار کیا ہے کہ حج کے مناسک کے دوران کئی علاقوں میں ریتیلی اورگرد آلود ہوائیں چلنے کا امکان ہے جبکہ دن کے اوقات میں درجۂ حرات 47 ڈگری رہنے کا اندیشہ ظاہر کیا ہے۔
موسمیات کی پیشگوئی کرنے والے مرکز نے کہا ہے کہ زمین پر ریت اورگرد آلود ہوائیں چلنے سے متاثر ہونے والے علاقوں میں ریاض، مشرقی صوبہ، کے کچھ حصے، وغیرہ شامل ہیں۔
قومی مرکز نے خبردار کیا ہے مکہ کے بلندی پر واقع حصوں اور پہاڑی علاقوں میں طوفان اور بارش کا امکان ہے۔
مرکز نے بتایا ہے کہ مکہ، مدینہ اور مشاعرالمقدسہ کو ملانے والی سڑکوں پر موسم میں خاص تبدیلی ہونے کا امکان کم ہے البتہ دن کے وقت درجۂ حرارت میں بہت زیادہ شدت ہوگی۔ ان مقامات پر عازمینِ حج کی بہت بڑی تعداد کی نقل و حرکت پہلے ہی سے ہو رہی ہے اور مناسکِ حج کے انتہائی دن یعنی پچیس مئی تک جاری رہے گی۔ خدشہ ہے کہ مکہ میں درجۂ حرات 47 جبکہ مدینہ میں 44 درجے سنٹی گریڈ تک پہنچ جائے گا۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق موسمیات کے مرکز نے عازمینِ حج اور مسافروں پر زور دیا ہے کہ روانگی سے پہلے اپنی گاڑیوں کو موسم کے لحاظ سے تیار رکھیں اور ساتھ ساتھ رہنما حفاظتی اصولوں پر ہر حال میں عمل کریں۔ انھیں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ زیادہ مقدار میں پانی اور مائعات کا استعمال کریں تاکہ جسم میں پانی کی کمی نہ ہونے پائے۔
کم از کم 1.6 ملین عازمینِ حج اس برس فریضۂ حج کی ادائیگی کے لیے مکہ مکرمہ میں جمع ہوں گے جو دنیا کے سالانہ مذہبی اجتماعات میں سب سے بڑا اجتماع ہوگا۔
