کے این واصف
اس ہفتہ میڈیا میں ایک دلچسپ خبر وائرل ہوئی۔ قصہ یوں تھا کہ بنگلور میں ایک خاتون اپنے پڑوسی سے جھگڑ رہی تھی کہ تمھارا بلّا (نر بلّی) ہمارے گھر آتا جاتا تھا۔ جس سے ہماری بلّی حاملہ ہوگئی اور اس نے چار بچّون کو جنم دیا۔ بلّی کی یہ ناراض مالکن اپنی بلّی کے چار بچون کے ساتھ پڑوسی کے گھر پہنچی اور کہا بلّی کے ان چار بچّون کو پالنا آپ کی ذمہ داری ہے۔ کیونکہ آپ کا بلّا ان کی پیدائش کا ذمہ دار ہے۔ یہ بحث و تکرار جب ہنگامے بننے لگی تو کسی نے پولیس کو فون کردیا۔ پولیس انسپکٹر اپنے عملے کے ساتھ موقع پر پہنچا اور قصہ سنکر ہنس پڑا۔ اور معاملہ رفع دفع کردیا۔
اچھا ہوا یہ واقع بنگلورو میں وقوع پذیر ہوا۔ ہوسکتا ہے اگر یہ واقع کسی ڈبل انجن کی سرکار والی ریاست میں ہوتا تو ہوسکتا ہے کہ بلّے کے خلاف POCSO کے تحت مقدمہ درج ہوتا اور ممکن ہے اس کا گھر بلڈوز کردیا جاتا۔ اس طرح “بلّے کے بھاگوں چھیکا ٹوٹا”
