دبئی – حسام الدین ریاض
ہندوستان کے عالمی شہرت یافتہ شاعر اور رکن پارلیمنٹ عمران پرتاب گڑھی نے نوجوان نسل سے اپیل کی کے وہ اپنے والد کی محبت شفقت اور محنت کو کبھی فراموش نہ کریں اور ہر روز اپنے والد کے ساتھ کچھ وقت ضرور گزاریں اپنی ماں کے علاوہ اپنے رشتہ داروں بزرگوں اور ساتھیوں کا بھی ہر حال میں لازمی طور پر ادب و احترام کریں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جشن اردو کے دس سال کی تکمیل کے سلسلے میں دبئی میں منعقدہ عالمی مشاعرہ وہ کوی سمیلن سے خطاب کررہے تھے۔ جشن اردو دبئی کے بانی جناب فرحان واسطی کی جانب سے منعقد کیا۔ اس بین الاقوامی مشاعرے نے ایک تاریخ بنائی اور مشاعرہ ڈھائی بجے رات (ہندوستانی وقت کے مطابق صبح چار بجے) تک جاری رہا۔ شیخ راشد آڈیٹوریم شائقین اردو سے کھچا کھچ بھر چکا تھا محبان اردو نے مقررہ وقت سے کافی دیر قبل ہی آکر اپنی نشستیں سنبھالی تھیں۔ اردو والوں کی اس مشاعرہ سے محبت کا یہ عالم دیکھا گیا کہ آڈیٹوریم میں جگہ نہ ملنے کے باوجود کئی سامعین کھڑے رھ کر گھنٹوں مشاعرہ سنتے رہے۔ جناب آر جے رشید ( سہارنپور پور -ٹی وی پریزنٹر) نے انتہائی عمدگی سے مشاعرے کی نظامت کی۔ ان کے برجستہ اشعار اور پر مزاح انداز نے محفل میں محفل کو باندھے رکھا۔ عمران پر تاب گڑھی نے اس موقع پر اپنی نظم “والد محترم”سنائی جس پر شیخ راشد آڈیٹوریم زبردست تالیوں سے گونج اٹھا شائقین بار بار تالیاں بجاتے اور ہر شعر پر داد و تحسین سے نوازتے رہے۔
عمران پر تاب گڑھی نے کہا کہ وہ بحیثیت رکن پارلیمنٹ متحدہ عرب امارات کے7 ریاستوں کے حکمرانوں کے پیار و محبت اور خلوص کو سلام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ کے ملک میں تقریبا ساڑھے چار تا پانچ بلین ہندوستانی عوام عزت کے ساتھ روٹی روزی کما رہے ہیں۔ پورے متحدہ عرب امارات بالخصوص دبئی کے حکمرانوں کو عمران پرتاب گڑھی نے پیار بھرا سلام پیش کیا اور کہا کہ ہندوستانیوں کو آپ لوگوں نے عزت دی ہے محبت دی ہے پناہ دی ہے پورے ہندوستان کی طرف سے میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ انھون نے کہا جس کام کو ہمارے ملک میں بڑے پیمانے پر ہونا چاہیے وہ کام متحدہ عرب امارات میں بحسن خوبی انجام پا رہا ہے۔ اس بات کا سارے اسٹیڈیم میں تالیوں کی گونج میں زبردست خیر مقدم کیا گیا انہوں نے مشاعرو کے کنوینر فرحان واسطی کی اردو زبان کے فروغ اور مشاعروں کے انعقاد سے متعلق کوششوں اور دلچسپی کو خوب سراہا ممتاز بزنس مین و معروف ادبی شخصیت ابو عبداللہ مہمان خصوصی تھے جو سب کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے تھے۔ جشن اردو کے بانی جناب فرحان واسطی نے اپنے خطاب میں تمام شعرائے کرام اور سامعین کا دلی خیر مقدم کیا انہوں نے دبئی سے اپنی عقیدت پر فخر کا اظہار کیا اور بھاری تعداد میں شرکت کرنے پر؛شائقین اردو سے اظہار تشکر کیا۔ جناب فرحان واسطی نے دبئی کے حکمرانوں کے لیے تمام ہندوستانی عوام کی جانب سے اظہار تشکر کیا اور ملک کی مزید ترقی اور خوشحالی کے لیے دعا کی۔ جناب فرحان واسطی کی دختر امل فاطمہ واسطی نے تمام شعراء کرام کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ ان کے والد محترم نے چند احباب کے ہمراہ اس جشن کی بنیاد ڈالی تھی۔ رفتہ رفتہ یہ جشن دنیا بھر میں مقبول ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ اردو اور ہندی زبان کو زندہ رکھنا اور اس سے لوگوں کو جوڑے رکھنا میرے والد محترم جناب فرحان واسطی کا شاندار کارنامہ ہے۔ انہوں نے بڑی تعداد میں شرکاء کی شرکت پر اظہار مسرت کرتے ہوئے کہا کہ جناب فرحان واسطی نے جو بیج بویا تھا اب وہ ثمر آور درخت بن چکا ہے۔ انہوں نے جناب فرحان واسطی اور ان کی ٹیم کے تمام احباب کو دلی مبارکباد بھی دی امل فاطمہ واسطی نے جشن کے رونق محفل و صدر محفل جناب ابو عبداللہ کا بھی بطور خاص شکریہ ادا کیا۔ علاوہ ازیں تمام معاونین سے بھی اظہار تشکر کیا۔
جناب پرویز احمد صدیقی بارہ بنکی نے ایک منظر نامہ پیش کیا اور ہندوستانی گنگا جمنی تہذیب پر روشنی ڈالی۔ جناب آفتاب علوی نے شاندار مشاعرہ کے انعقاد پر پر جناب فرحان واسطی کی ستائش کی اور کہا کہ لوگ اردو کو بھی مسلمان سمجھ لیتے ہیں جبکہ کئی غیر مسلم شعراء نے اردو میں شاعری کی ہے۔ مشاعرے کا آغاز جناب فرحان واسطی کی دختر امل فاطمہ واسطی نے شمع روشن کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر جناب خواجہ خطیب، جناب مرزا نسیم بیگ، جناب فرحان احمد صدیقی، جناب شہاب الدین، جناب پرویز احمد صدیقی، جناب سید عباس علی فرحان اعظمی، جناب سید جمال واسطی، قاری محمد عبدالرحمن (حیدرآباد) جناب محمد حسام الدین ریاض ₨حیدرآباد)، جناب محمد حسین قادری عارف دبا الفجیرہ، جناب آفتاب علوی، جناب سید فرحان اعظمی، جناب عمیر خان، جناب محمد اشرف، جناب عبدالرحمن عزیز، جناب سراج احمد فاروقی، جناب محمد احمد خان، جناب سید فیض عباس زیدی، جناب شبلی جمال، جناب آفاق علی، جناب شاہد نثار، جناب شہاب الدین اور دیگر معززین موجود تھے۔
اس مشاعرے کو جناب راحت اندوری اور جناب منوررانا کے نام منسوب کیا گیا تھا۔ صدر مشاعرہ جناب اظہر عنایتی کے علاوہ جناب عمران پرتاپ گڑھی، جناب شکیل اعظمی، جناب ابرار کاشف، جناب راحت ستلج، جناب احمد سلمان، جناب شمیم عباس، جناب عثمان مینائی، جناب اختر کانپوری، پروفیسر رحمان نے اپنا کلام پیش کیا۔
ڈاکٹر ابو عبداللہ اور سید فرحان واسطی نے عمران پڑتاپگڑھی کو مومنٹو پیش کیا اور شال پوشی کی اور OKSA کہ اسامہ بھائی نے بھی مومنٹو پیش کیا۔ صدر محفل جناب ابو عبداللہ اور جناب سید فرحان واسطی وتمام معزز مہمانوں نے شعرا کرام کو مومنٹو اور شال پیش کئے گئے۔ مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے دبئی میں مقیم محبان اردو نے اس مشاعرے میں شرکت کی لطف اندوز ہوئے۔
