کے این واصف
پچھلے ہفتہ وزیر آعظم نریندر مودی کو سالگرہ کی مبارکباد دینے کی خاطر “ایک دیا آشیرواد کا” کے نام سے کئی ریاستوں میں کروڑوں کی تعداد میں دیپ جلائے گئے۔ دئے جلانے کے لیے ملک کے عوام سے سوشل میڈیا کے پر خواہش کی گئی تھی اور کچھ ریاستوں میں اسکولی بچون کو سرکاری سطح پر حکم جاری کیا گیا تھا کہ وہ لازماً دیا جلانے کی اس مہم میں ضرور حصہ لیں۔ بچون نے حکم بجالاتے ہوئے کروڑوں دیپ جلائے۔
دئے روشن کرنے کی اس تقریب سے VIPs کے موقع سے ہٹتے ہی کئی غریب بچّے بڑے دیوں کا تیل بوتلوں میں بھرنے لگے تاکہ ان گھر پکوان میں استعمال کے لئے تیل کا جگاڑ ہوجائے۔ یہ منظر سالگرہ کی خوشیوں سے زیادہ ملک میں مجبوری، غربت اور معاشی بدحالی کی تصویر پیش کر رہاتھا۔
دوسری جانب غرباء کا جلتے دیوں سے تیل حاصل کرنے کا یہ منظر دیکھ کر ایک پرانا محاورہ یاد آیا “جلتے گھر کا بھانسہ، جوملا وہی منافع”۔
