حیدرآباد۔ (راست)
“انجمن ریختہ گویاں” حیدرآباد نے اپنی محافل کا احیا کرتے ہوئے اتوار کو پہلا اجلاس بصدارت پروفیسر ایس اے شکور انعقاد عمل میں لایا۔ پروفیسر شکور، صوفی سلطان شطاری اور دیگر مقررین نے انجمن کو اپنے اجلاس دوبارہ شروع کرنے پر مبارکباد پیش کی۔
محفل کا عنوان “قطعہ کیا الگ سے کوئی صنفِ شاعری ہے” دیا گیا تھا۔ شرکاء نے اس عنوان پر نہ صرف اس صنف شاعری پر سیر حاصل اظہار خیال کیا بلکہ خوبصورت قطعات پیش کرکے داد و تحسین بھی حاصل کی۔ اس ادبی محفل میں جناب ہمایوں مرزا،صوفی سلطان شطاری، جناب ایم اے ماجد، جناب کے این واصف، جناب ابومسعود عبدالغنی، جناب سیف الدین، جناب محمد عبدالقادر، ڈاکٹر لیقہ پروین، جناب محمد ظہورالدین، جناب مسکین احمد، محترمہ مسرت شہید، محترمہ جسوین جے رتھ، ڈاکٹر روبینہ شبنم، جناب آتش حیدرآباد اور جناب سید ابراہیم کفیل نے بحیثیت مہمانان خصوصی شرکت اور خطاب کیا۔ ڈاکٹر گل رعنا نے قطعہ کے معنی و مفہوم، ان کے اقسام اور اس کی تاریخی حیثیت پر مدلل مقالہ پیش کیا۔ ڈاکٹر عطیہ مجیب عارفی نے اپنی نظامت کے دوران خوبصورت قطعات پیش کرکے خوب داد و تحسین حاصل کی۔ابتداء میں ڈاکٹر جاوید کمال صدرانجمن ریختہ گویان نے خیرمقدمی تقریر کی اور ”اصناف سخن گوئی“ کے مقاصد پر روشنی ڈالی۔ اراکین انجمن رفیعہ نوشین، صائمہ متین، جاوید محی الدین، واجد محی الدین اور لطیف الدین لطیف نے سنجیدہ و طنزومزاح سے بھرپورقطعات پیش کرکے محفل کو یادگاربنادیا۔ اس کے علاوہ ابومسعود عبدالغنی، کے این واصف، اصغری بانو، نجیب احمد نجیب، آتش حیدرآبادی، مظفراحمد اور دوسروں نے بھی یادگار قطعات پیش کئے۔ اس موقع پر صدر محفل پروفیسر ایس اے شکور، صوفی سلطان شطاری اور ایم اے ماجد نے جناب ہمایوں مرزا اور ڈاکٹر لئیقہ پروین کو اُن کے بے لوث تعاون پر شال پوشی اور مومنٹوز پیش کئے اور خوبصورت قطعات اور اس کی بہترین تشریح پیش کرنے پر اصغری بانو، نجیب احمد نجیب اور آتش حیدرآبادی کو شال پوشی اور مومنٹوز کے ذریعہ تہنیت پیش کی۔ شرکاء میں ڈاکٹر صابر علی سیوانی، محترمہ زبیدہ، ابوعمر صدیقی، نظام الدین، سیف تاج، امجد باغی اور دوسروں نے شرکت کی۔ رکن انجمن جاوید محی الدین کے شکریہ پر اس یادگار محفل کا اختتام عمل میں آیا۔

