کے این واصف، ریاض
آندھراپردیش کے شہر اننت پور کے ایک مند کی ہنڈی سے ایک بیس روپئے کی نوٹ ملی جس پر لکھا تھا “بھگوان مین اپنی ساس کی اذیت سے تنک آچکی ہوں براہ کرم اسے جلد اپنے پاس بلالے”
ساس، بہو کے درمیان انبن یا تلخیاں صدیوں پرانی روایت ہے۔ ہر وہ بہو جو آج اپنی ساس سے نالاں ہے کل اس کی بہو بھی اس سے اسی طرح نالاں رہتی ہے۔
اننت پور کی خبر پڑھ کر ہمارے ذہن میں پچھلے سال بین الاقوامی یوم کے خواتین کے جلسے میں سنا ایک جملہ یاد آیا۔ جہاں موقع کی مناسبت سے مقررین دنیا میں خواتین کی کامیابیوں کے تذکرے کررہے تھے۔ خواتین کا ہر میدان میں مردوں کے شانہ بشانہ ہونے کی مثالیں پیش کررہے تھے۔ صدر جلسہ نے اپنے خطاب خواتین کا مردون کے “شانہ بشانہ” ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے آخر میں کہا “کیا ہی اچھا ہوتا اگر ہماری قابلِ فخر خواتین اختلافات کی طرز کہن کے بیچ ایک رسم نو ڈالیں۔ رویتی نفرت کو محبت میں بدلیں۔ ساس بہو، نند بھوج، دیورانی جیٹھانی “شانہ بشانہ” ہوجائین۔
